ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ التوبة (9) — آیت 113

مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ یَّسۡتَغۡفِرُوۡا لِلۡمُشۡرِکِیۡنَ وَ لَوۡ کَانُوۡۤا اُولِیۡ قُرۡبٰی مِنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمۡ اَنَّہُمۡ اَصۡحٰبُ الۡجَحِیۡمِ ﴿۱۱۳﴾
اس نبی اور ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، کبھی جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا کریں، خواہ وہ قرابت دار ہوں، اس کے بعد کہ ان کے لیے صاف ظاہر ہوگیا کہ یقینا وہ جہنمی ہیں۔ En
پیغمبر اور مسلمانوں کو شایاں نہیں کہ جب ان پر ظاہر ہوگیا کہ مشرک اہل دوزخ ہیں۔ تو ان کے لیے بخشش مانگیں گو وہ ان کے قرابت دار ہی ہوں
En
پیغمبر کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وه رشتہدار ہی ہوں اس امر کے ﻇاہر ہوجانے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

113۔ نبی اور ایمان والوں کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ مشرکوں کے لئے بخشش [129] طلب کریں خواہ وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں جبکہ ان پر یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ مشرکین دوزخی (ہوتے) ہیں
[129] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یتیم پیدا ہوئے تھے۔ آٹھ سال کی عمر تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دادا عبد المطلب کے زیر تربیت رہے۔ پھر عبد المطلب بھی فوت ہو گئے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب کے سپرد کر گئے۔ ابو طالب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت پیار و محبت سے تربیت کی جب چالیس سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا اعلان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمن بن گئی لیکن ابو طالب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھرپور حمایت کی اور اسلام نہ لانے کے باوجود ہر مشکل وقت میں ابو طالب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ڈھال کا کام دیتے رہے۔ شعب ابی طالب میں تین سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ابو طالب سے بہت محبت تھی۔ نبوت کے آٹھویں سال ابو طالب کی وفات ہو گئی جس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید صدمہ ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طالب کی پدرانہ شفقت اور اسلامی خدمات کے جذبات سے متاثر ہو کر اس کے حق میں استغفار کا وعدہ کیا جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔
مشرکین کے لئے دعائے مغفرت کی ممانعت اور قصہ ابو طالب:۔
مسیب بن حزن (سعید بن مسیب کے والد) کہتے ہیں کہ جب ابو طالب کی وفات کا وقت آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے اس وقت ان کے پاس ابو جہل بیٹھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طالب سے کہا ”چچا لا الہ الا اللہ کہہ لو۔ مجھے اپنے پروردگار کے ہاں (تمہاری مغفرت کے لیے) ایک دلیل مل جائے گی۔“ ابو جہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ کہنے لگے: کیا تم عبد المطلب کے دین کو چھوڑ دو گے؟ دونوں برابر یہی سمجھاتے رہے آخر ابو طالب نے آخری بات جو کہی وہ یہ تھی کہ میں عبد المطلب کے دین پر (مرتا) ہوں۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے لیے بخشش کی دعا کرتا رہوں گا۔ جب تک مجھے اس سے منع نہ کیا جائے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ [بخاري۔ كتاب المناقب۔ قصه ابي طالب]
اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے نزول سے پہلے مشرکوں کے لیے دعائے مغفرت کرنا منع نہ تھا۔