اس میں کبھی کھڑے نہ ہونا۔ یقینا وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی زیادہ حق دار ہے کہ تو اس میں کھڑا ہو۔ اس میں ایسے مرد ہیں جو پسند کرتے ہیں کہ بہت پاک رہیں اور اللہ بہت پاک رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
En
تم اس (مسجد) میں کبھی (جاکر) کھڑے بھی نہ ہونا۔ البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے اس قابل ہے کہ اس میں جایا (اور نماز پڑھایا) کرو۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو کہ پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں۔ اور خدا پاک رہنے والوں کو ہی پسند کرتا ہے
آپ اس میں کبھی کھڑے نہ ہوں۔ البتہ جس مسجد کی بنیاد اول دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے وه اس ﻻئق ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں، اس میں ایسے آدمی ہیں کہ وه خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ خوب پاک ہونے والوں کو پسند کرتا ہے
En
108۔ (اے نبی)! آپ اس (مسجد ضرار) میں کبھی بھی (نماز کے لئے) کھڑے نہ ہونا۔ وہ مسجد جس کی پہلے دن سے تقویٰ پر بنیاد [121] رکھی گئی تھی زیادہ مستحق ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے
[121] تقویٰ پر تعمیر شدہ مسجد کونسی ہے؟
وہ مسجد کونسی تھی اور کیسے حالات میں تعمیر ہوئی؟ اس کی وضاحت کے لیے درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے: 1۔ سیدنا ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ دو آدمیوں نے اس بات میں جھگڑا کیا کہ وہ کونسی مسجد ہے جس کی پہلے دن سے تقویٰ پر بنیاد رکھی گئی تھی۔ ایک نے کہا وہ مسجد قبا ہے اور دوسرے نے کہا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ہے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”وہ یہی میری مسجد ہے۔“ [ترمذي۔ ابواب التفسير] 2۔
مسجد نبوی کی تعمیر اور بعد میں وسعت:۔
سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو مدینہ کے بلند حصہ قبیلہ بنی عمرو بن عوف میں اترے آپ چوبیس (اور ایک روایت کے مطابق چودہ) راتیں وہاں رہے۔ پھر بنی نجار کو بلا بھیجا جو تلواریں لٹکائے حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی پر سوار ہوئے سیدنا ابو بکر صدیقؓ آپ کی خواصی میں اور بنی نجار کے سردار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد تھے۔ یہاں سے چل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابو ایوب کے گھر میں اترے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پسند تھی کہ جہاں نماز کا وقت آئے وہیں نماز پڑھ لیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعمیر مسجد کا حکم دیا۔ اور بنی نجار کے سرداروں کو بلا بھیجا اور فرمایا ”تم اپنے اس باغ کی قیمت مجھ سے طے کر لو۔“ وہ کہنے لگے۔ ”نہیں اللہ کی قسم ہم تو اس کی قیمت اللہ تعالیٰ سے ہی لیں گے۔“ اس باغ میں کچھ تو مشرکوں کی قبریں تھیں، کچھ کھنڈر اور کچھ کھجور کے درخت۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو مشرکوں کی قبریں کھود ڈالی گئیں، کھنڈر برابر کیے گئے اور کھجور کے درخت کاٹ کر ان کی لکڑیاں قبلے کی طرف جما دی گئیں۔ اس کے دونوں طرف پتھروں کا پشتہ لگایا۔ صحابہ شعر پڑھ پڑھ کر پتھر ڈھو رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ شعر پڑھتے اور فرماتے: «اللہم لاخير الا خيرالاٰ خرة» «فاغفر الانصار والمهاجرة» (اے اللہ! بھلائی تو وہی ہے جو آخرت کی ہو اے اللہ انصار اور مہاجرین کو بخش دے۔) [بخاري۔ كتاب الصلوة۔ باب هل ينبش قبور مشركي الجاهليه] 3۔ ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ (مسجد نبوی کی تعمیر کے وقت) ہم ایک ایک اینٹ اٹھا رہے تھے اور عمارؓ دو دو اینٹیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمارؓ کو دیکھا تو ان کے بدن سے مٹی جھاڑنے لگے اور فرمایا ”افسوس عمارؓ کو باغی جماعت مار ڈالے گی۔ یہ تو انہیں بہشت کی طرف بلائے گا اور وہ اسے دوزخ کی طرف بلائیں گے۔“ چنانچہ عمارؓ کہا کرتے: میں فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ [بخاري۔ كتاب الصلوة۔ باب التعاون فى بناء المسجد] 4۔ عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد نبوی کچی اینٹ سے بنی ہوئی تھی، چھت پر کھجور کی ڈالیاں اور ستون کھجور کی لکڑی کے تھے۔ سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے (اپنے دور خلافت میں) کچھ نہیں بڑھایا اور سیدنا عمرؓ نے مسجد کو بڑھایا لیکن عمارت ویسی ہی رکھی جیسی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھی یعنی اینٹوں اور کھجور کی ڈالیوں کی۔ البتہ کھجور کی لکڑی کے ستون دوبارہ لگائے گئے پھر سیدنا عثمان رضی اللہ نے اسے بدل ڈالا اور بہت بڑھایا اور اس کی دیواریں نقشی پتھر اور گچ سے بنوائیں اور اس کے ستون بھی نقشی پتھر کے تھے اور اس کی چھت ساگوان سے بنوائی۔ [بخاري۔ كتاب الصلوة۔ باب بنيان المسجد]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔