ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الفجر (89) — آیت 9

وَ ثَمُوۡدَ الَّذِیۡنَ جَابُوا الصَّخۡرَ بِالۡوَادِ ۪ۙ﴿۹﴾
اور ثمود کے ساتھ ( کس طرح کیا) جنھوں نے وادی میں چٹانوں کو تراشا۔ En
اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادئِ (قریٰ) میں پتھر تراشتے تھے (اور گھر بناتے) تھے
En
اور ﺛمودیوں کے ساتھ جنہوں نے وادی میں بڑے بڑے پتھر تراشے تھے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

9۔ اور ثمود کے ساتھ (کیا سلوک کیا) جنہوں نے وادی [8] میں چٹانیں تراشی تھیں
[8] ذکر قوم ثمود :۔
دوسری قوم ثمود تھی جسے عاد ثانی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ماہر سنگ تراش تھی۔ پہاڑوں کے اندر اپنے مکان تو کجا شہروں کے شہر پتھروں کو تراش تراش کر بنا رکھے تھے ان لوگوں کا مسکن وادی القریٰ تھا جو مدینہ اور تبوک کے راستہ پر پڑتا ہے۔ یہ بھی آخرت کے منکر فلہٰذا اللہ کے باغی تھے۔ اللہ نے انہیں زلزلے اور چیخ کے عذاب سے تباہ کر دیا۔ زلزلہ اتنا شدید تھا کہ ان کے پتھروں کے مکانوں میں دراڑیں اور شگاف پڑ گئے۔ پھر ان میں سے بہت سے مکان پہاڑ کے بوجھ کی وجہ سے کھنڈر بن گئے اور وہ خود زلزلہ اور چیخ کی تاب نہ لا کر مر گئے۔