5۔ ان باتوں میں اہل عقل کے لیے ضرور ایک بھاری قسم [5] ہے
[5]﴿حِجر﴾ بمعنی پتھر اور ہر ٹھوس اور سخت چیز جو آڑ کا کام دے سکے۔ اور عقل کو بھی حجر کہتے ہیں وہ اس لحاظ سے کہ وہ بھی ہر اس چیز کو جو نقصان دہ ہو روک دیتی ہے۔ اور ﴿ذي حجر﴾ یعنی صاحب عقل یا عقلمند۔ اور اس آیت کا دوسرا ترجمہ یوں بھی ہو سکتا ہے: کیا یہ (مذکور چار چیزیں) عقلمندوں کے نزدیک قسم کھانے کے لائق نہیں؟ مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی نکلتا ہے یعنی مذکورہ اشیاء اس نظام کائنات کے نہایت اہم اجزا اور اپنے اپنے مقام پر بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ پھر کیا وہ ہستی جو ایسا نظام کائنات چلا رہی ہے عالم آخرت کو وجود میں نہ لا سکے گی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔