ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الفجر (89) — آیت 23

وَ جِایۡٓءَ یَوۡمَئِذٍۭ بِجَہَنَّمَ ۬ۙ یَوۡمَئِذٍ یَّتَذَکَّرُ الۡاِنۡسَانُ وَ اَنّٰی لَہُ الذِّکۡرٰی ﴿ؕ۲۳﴾
اور اس دن جہنم کو لایا جائے گا، اس دن انسان نصیحت حاصل کرے گا اور ( اس وقت) اس کے لیے نصیحت کہاں۔ En
اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی تو انسان اس دن متنبہ ہو گا مگر تنبہ (سے) اسے (فائدہ) کہاں (مل سکے گا)
En
اور جس دن جہنم بھی ﻻئی جائے گی اس دن انسان کو سمجھ آئے گی مگر آج اس کے سمجھنے کا فائده کہاں؟ En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

23۔ اور جہنم اس دن سامنے لائی جائے گی، اس دن انسان نصیحت تو قبول کرے گا مگر اس وقت اسے [17] نصیحت سے کیا حاصل ہو گا؟
[17] یعنی جب آخرت اور جنت و دوزخ کے منکرین جہنم کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لیں گے تو کہیں گے کہ آج ہمیں جو بھی نصیحت کی جائے اور حکم دیا جائے ہم اسے ماننے کو تیار ہیں۔ مگر اس وقت چونکہ ان کی فرمانبرداری اختیاری نہیں اضطراری ہو گی۔ ان کا ایمان لانا بالغیب نہیں بلکہ بالشہادت ہو گا لہٰذا اس کی کچھ قدر و قیمت نہ ہو گی۔ کسی چیز کو دیکھ کر تو ہر کوئی یقین کر ہی لیتا ہے۔ اس دن ایسے لوگ بڑی حسرت سے کہیں گے کہ کاش ہم نے دنیا میں یہ نصیحت قبول کر لی ہوتی۔ اور آج کے دن کے لیے ہم نے بھی کچھ اچھے کام کیے ہوتے۔