ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الفجر (89) — آیت 13

فَصَبَّ عَلَیۡہِمۡ رَبُّکَ سَوۡطَ عَذَابٍ ﴿ۚۙ۱۳﴾
تو تیرے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔ En
تو تمہارے پروردگار نے ان پر عذاب کا کوڑا نازل کیا
En
آخر تیرے رب نے ان سب پر عذاب کا کوڑا برسایا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

13۔ تو آپ کے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا [10] برسا دیا
[10] ان تینوں تاریخی واقعات میں قدر مشترک یہ ہے کہ یہ سب اقوام آخرت کی منکر تھیں۔ اور جو فرد یا قوم آخرت پر ایمان نہ رکھتی ہو۔ وہ اپنی زندگی بے باکانہ اور شتر بے مہار کی طرح گزارتی اور فسق و فجور میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ اور جب وہ ایک مخصوص حد سے آگے بڑھ جاتی ہے تو اس کے گناہوں کا ڈول بھر جاتا ہے اور عذاب الٰہی کی گرفت میں آجاتی ہے۔ ان واقعات سے استدلال یہ پیش کیا گیا ہے کہ آخرت کا عقیدہ محض تصوراتی نظر یہ نہیں بلکہ ایک ٹھوس حقیقت ہے۔ اور جس طرح انسان کسی ٹھوس حقیقت کے مقابلہ پر اتر آنے اور ٹکرانے سے پاش پاش ہو جاتا ہے۔ آخرت کے منکروں کا بھی یہی حال ہوتا رہا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا۔