[9] خانہ بدوشوں کی کل کائنات کیا تھی؟ اور اللہ کی نشانیاں :۔
ان خانہ بدوش بدوؤں کی زندگی کے مشاہدات کیا تھے؟ بس یہی کہ ادھر ادھر منتقل ہونے کے لیے اونٹ جو ان کی سواری اور بار برداری کا کام دیتا تھا۔ اوپر آسمان تھا، نیچے زمین اور اردگرد پھیلے ہوئے طویل سلسلہ ہائے کوہ۔ یہی چیزیں ان کی کل کائنات تھی۔ ان میں ایک ایک چیز کی طرف ان کی توجہ مبذول کرائی گئی۔ آسمان کی وسعت کا یہ عالم ہے کہ اس میں لاکھوں اور کروڑوں سیارے محو گردش ہیں۔ زمین کی یہ کیفیت ہے کہ گول ہونے کے باوجود جتنا بھی اس پر سفر کرتے جاؤ ہموار ہی نظر آتی ہے۔ اور یہ بھی زمین کی وسعت کی دلیل ہے۔ پہاڑ زمین پر اس طرح گاڑ دیئے گئے ہیں کہ خود تو اپنی جگہ سے ذرا بھر نہیں ہلتے البتہ زمین کے ہلنے اور ڈگمگانے کو ختم کر دیا ہے۔ ان لوگوں سے پوچھا یہ جا رہا ہے کہ کیا ان لوگوں نے کبھی یہ سوچا کہ اونٹ کیسے بن گئے؟ اتنا بڑا آسمان بنانے والا کون ہے؟ یہ پہاڑ زمین میں کیسے نصب ہو گئے۔ اور یہ زمین کیسے بچھ گئی۔ یہ ساری چیزیں اگر اللہ تعالیٰ بنا سکتا ہے تو آخر دوسرا عالم کیوں نہیں بنا سکتا اور قیامت کیوں قائم نہیں کر سکتا؟ کیا انسان کے لیے یہ جائز ہے کہ ان ساری چیزوں کو اس لیے مان لے کہ انہیں وہ دیکھ رہا ہے اور قیامت اور جنت و دوزخ کا صرف اس بنا پر انکار کر دے کہ ان چیزوں کو اس نے دیکھا نہیں یا اس کے تجربہ میں نہیں آئیں؟ آخر اسے عقل و شعور کس بنا پر عطا کیا گیا ہے؟ کیا اس لیے کہ جو چیزیں اسے نظر نہیں آتیں بلاسوچے سمجھے ان کا انکار کر دے؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔