ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأعلى (87) — آیت 2

الَّذِیۡ خَلَقَ فَسَوّٰی ۪ۙ﴿۲﴾
وہ جس نے پیدا کیا، پس درست بنایا۔ En
جس نے (انسان کو) بنایا پھر (اس کے اعضاء کو) درست کیا
En
جس نے پیدا کیا اور صحیح سالم بنایا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

2۔ جس نے پیدا کیا پھر اسے درست [2] کیا
[2] یعنی اللہ تعالیٰ نے کائنات کی سب اشیاء کو پیدا ہی نہیں کیا بلکہ اس چیز سے جو کام لینا مقصود تھا اس کے مطابق اس کی شکل و صورت بنائی اور شکل و صورت کو اس طرح ٹھیک ٹھاک اور درست کیا کہ اس کے لیے اس سے بہتر شکل و صورت ممکن ہی نہ تھی۔ مثلاً ناک کا ایک کام یہ ہے کہ اس سے دماغ کے فضلات خارج ہوتے رہیں اور یہ مقصد ناک کو سر کے پیچھے بنانے سے بھی حاصل ہو سکتا تھا۔ مگر اس کے تصور سے ہی انسان کو گھن آنے لگتی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ناک کو چہرہ پر سامنے بنایا تاکہ چہرے کی خوبصورتی میں اضافہ ہو، نیز انسان کی ناک بہتی ہی نہ رہے بلکہ انسان بوقت ضرورت اپنے ہاتھ سے جھاڑ سکے اور صاف کر سکے۔ یہی صورت حال ایک ایک عضو بلکہ کائنات کی ایک ایک چیز کے متعلق مشاہدہ کی جا سکتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف خالق ہی نہیں بلکہ انتہا درجہ کا حکیم اور مدبر بھی ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اعضاء کی تخلیق محض اتفاقات کا نتیجہ قطعاً نہیں ہے ورنہ مقاصد کے ساتھ ساتھ حسن و جمال کے امتزاج کا تصور بھی نہیں ہو سکتا تھا۔