ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأعلى (87) — آیت 14

قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَکّٰی ﴿ۙ۱۴﴾
بے شک وہ کامیاب ہوگیا جو پاک ہوگیا ۔ En
بے شک وہ مراد کو پہنچ گیا جو پاک ہوا
En
بیشک اس نے فلاح پالی جو پاک ہوگیا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

14۔ فلاح پا گیا جس نے پاکیزگی اختیار کی [10]
[10] یعنی جس نے اپنے آپ کو کفر و شرک، عقائد فاسدہ سے اور اخلاقی رذیلہ سے پاک کر لیا وہ کامیاب ہو گیا۔ یہاں بعض لوگوں نے تزکیٰ سے مراد زکوٰۃ اور بالخصوص صدقہ فطر اور ﴿وذكر اسم ربه﴾ سے مراد تکبیرات عیدین اور فصلی سے مراد نماز عید لی ہے۔ اور اگر اس آیت کو اس کے عام مفہوم میں لیا جائے تو زیادہ مناسب ہے۔ یعنی جو شخص اپنے نفس کو پاکیزہ بنا لے پھر اللہ کو زبان سے بھی یاد کرتا رہے اور دل میں بھی یاد رکھے۔ پھر اسی کی تائید کے طور پر باقاعدگی سے نمازیں ادا کرتا رہے تو سمجھ لو کہ اس کی زندگی سنور گئی اور کامیاب ہو گیا۔ یہاں کامیابی سے مراد اخروی کامیابی تو یقینی ہے اور اس دنیا میں اس کی کامیاب زندگی کا انحصار اللہ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہے کیونکہ دار الجزا آخرت ہے یہ دنیا نہیں۔