5۔ لہٰذا انسان کو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ کس چیز [4] سے پیدا کیا گیا ہے؟
[4] عالم بالا کی طرف توجہ دلانے کے بعد اب انسان کو دعوت دی جا رہی ہے کہ وہ ذرا اپنی پیدائش پر بھی غور کر لے کہ ماں کے پیٹ میں کون اس کی پرورش کرتا رہا اور کس نے اس کے حمل کو رحم مادر میں جمائے رکھا اور اتنا سخت جمایا کہ بغیر کسی شدید حادثہ کے حمل ضائع نہیں ہو سکتا تھا۔ پھر جب وہ ماں کے پیٹ سے باہر آیا تو اتنا زیادہ ناتواں اور کمزور تھا جتنا کمزور بچہ دوسری کسی جاندار مخلوق کا نہیں ہوتا۔ پھر دوسری تمام مخلوق سے بڑھ کر اس کی نشو و نما کے انتظامات فرمائے۔ پھر پیدائش سے لے کر موت تک اس کی مسلسل نگرانی کرتا رہتا ہے۔ اسے بیماریوں سے، حادثات سے اور طرح طرح کی آفات سے بچاتا رہتا ہے۔ اس کی زندگی اور زندگی کی بقا کے اتنے ذرائع بہم پہنچاتا ہے جنہیں انسان شمار بھی نہیں کر سکتا بلکہ اسے ان کا شعور تک نہیں ہوتا۔ کجا وہ خود فراہم کرنے پر قادر ہو۔ تاآنکہ وہ اپنی اس مدت موت کو پہنچ جاتا ہے جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کر رکھی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کی تدبیر اور اس کی نگرانی کے بغیر ہونا ممکن ہے؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔