ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المطففين (83) — آیت 26

خِتٰمُہٗ مِسۡکٌ ؕ وَ فِیۡ ذٰلِکَ فَلۡیَتَنَافَسِ الۡمُتَنَافِسُوۡنَ ﴿ؕ۲۶﴾
اس کی مہر کستوری ہو گی اور اسی (کو حاصل کرنے) میں ان لوگوں کو مقابلہ کرنا لازم ہے جو (کسی چیز کے حاصل کرنے میں) مقابلہ کرنے والے ہیں۔ En
جس کی مہر مشک کی ہو گی تو (نعمتوں کے) شائقین کو چاہیے کہ اسی سے رغبت کریں
En
جس پر مشک کی مہر ہوگی، سبقت لے جانے والوں کو اسی میں سبقت کرنی چاہئے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

26۔ جس کی مہر کستوری [16] کی ہو گی اور (نعمتوں کے) شائقین کو چاہیے کہ وہ اس بات میں رغبت کریں۔
[16] جنت کی شراب کے خواص :۔
دنیا کی شراب بدبو دار ہوتی ہے اور ذائقہ تلخ، پینے سے اس کی سڑاند فوراً دماغ تک جا پہنچتی ہے جس سے انسان کے حواس مختل ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس جنت میں شراب کی یہ خاص قسم رحیق کی خوشبو ایسی ہو گی جیسے کستوری کی۔ اس کی مہر میں لاکھ یا مٹی یا موم کے بجائے کستوری لگائی گئی ہو گی اور اس میں دنیا کی شراب والی کوئی قباحت نہیں ہو گی۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا کی ناپاک شراب اس قابل نہیں کہ بھلے آدمی اس کی طرف رغبت کریں۔ ہاں یہ رحیق یقیناً ایسی نعمت ہے جس پر لوگوں کو ٹوٹ پڑنا چاہیے اور اس کے حصول کے لیے نیک اعمال میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔