ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المطففين (83) — آیت 18

کَلَّاۤ اِنَّ کِتٰبَ الۡاَبۡرَارِ لَفِیۡ عِلِّیِّیۡنَ ﴿ؕ۱۸﴾
ہرگز نہیں، بے شک نیک لوگوں کا اعمال نامہ یقینا بہت ہی اونچے لوگوں کے دفتر میں ہے ۔ En
(یہ بھی) سن رکھو کہ نیکوکاروں کے اعمال علیین میں ہیں
En
یقیناً یقیناً نیکو کاروں کا نامہٴ اعمال عِلِّیین میں ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

18۔ ہرگز نہیں۔ نیک لوگوں [12] کا اعمال نامہ بلند پایہ لوگوں کے دفتر میں [13] ہے
[12] ﴿فاجر﴾ اور ﴿ابرار﴾ کا لغوی مفہوم :۔
یہاں ﴿فجار﴾ کے مقابلہ میں ابرار کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ ﴿فَجَرَ کے معنی کسی چیز کو وسیع طور پر پھاڑنا اور ﴿فجر﴾ کو ﴿فجر﴾ اس لیے کہتے ہیں کہ وہ سارے آسمان پر نمودار ہو جاتی ہے۔ اور فاجر وہ شخص ہے جو وسیع پیمانے پر دین کی نافرمانی کرنے والا ہو اور ہر وقت گناہوں میں منہمک رہتا ہو اور گناہوں سے تائب نہ ہو۔ اس کے مقابلہ میں ابرار ہے۔ برّ کے معنی نیکی، نیکی کے کام اور بر کے معنی وسیع خشک قطعہ زمین ہے گویا بر کے لفظ میں نیکی کے علاوہ وسعت کا تصور بھی پایا جاتا ہے۔ اور بر دراصل نیکی کو نہیں بلکہ ہر دم نیکی پر مائل رہنے والی خصلت کو کہتے ہیں کہ جب کسی نیکی کا موقع آئے اسے فوراً سرانجام دے دیا جائے اور بارّ وہ شخص ہے جو ایسی خصلت رکھتا ہو اور اسی کی جمع ابرار ہے۔
[13] یعنی جس طرح سجین بد کردار لوگوں کی ارواح کا قید خانہ اور ان کے اعمال ناموں کے جمع ہونے کا دفتر ہے۔ اسی طرح ﴿عليين﴾ ابرار کی ارواح کا مستقر ہے اور ان کے اعمالنامے اسی مقام پر محفوظ رکھے جاتے ہیں۔ بعض اسلاف کے قول کے مطابق یہ مقام سات آسمانوں کے اوپر ہے۔ ﴿والله اعلم بالصواب﴾