ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ عبس (80) — آیت 20

ثُمَّ السَّبِیۡلَ یَسَّرَہٗ ﴿ۙ۲۰﴾
پھر اس کے لیے راستہ آسان کر دیا۔ En
پھر اس کے لیے رستہ آسان کر دیا
En
پھر اس کے لئے راستہ آسان کیا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

20۔ پھر اس کے لئے راستہ آسان [13] کر دیا
[13] اس آیت کے کئی مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ ماں کے پیٹ سے باہر آنا اس کے لیے آسان بنا دیا۔ جب رحم مادر میں بچے کی نشو و نما پوری ہو چکتی ہے تو ماں اس کو اپنے پیٹ سے باہر نکالنے کے لیے بے قرار ہو جاتی ہے اور جب تک اسے جن نہ لے اسے قرار نہیں آتا۔ راستہ تنگ ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ وضع حمل کے وقت اس راستہ میں اتنی لچک پیدا کر دیتا ہے کہ ماں کے لئے اس کا جننا آسان ہو جاتا ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو تمام ایسی قوتیں عطا کر دیں اور استعداد مہیا کر دی کہ وہ دنیا میں موجود وسائل و اسباب سے کام لے کر اپنی زندگی گزار سکے اور تیسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اسے خیر و شر کے دونوں راستے سمجھا دیے۔ اس کی فطرت میں یہ تمیز رکھ دی۔ پھر انبیاء و رسل اور کتابوں کے ذریعے بھی سب کچھ سمجھا دیا، اور اسے اختیار دے دیا کہ جونسی راہ وہ چاہے اختیار کر لے۔ پھر جو راہ بھی اختیار کرے اللہ تعالیٰ اسی راستے کو اس کے لئے آسان بنا دیتا ہے اور اس کی توفیق عطا فرماتا جاتا ہے۔