ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأنفال (8) — آیت 54

کَدَاۡبِ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ۙ وَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمۡ فَاَہۡلَکۡنٰہُمۡ بِذُنُوۡبِہِمۡ وَ اَغۡرَقۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ ۚ وَ کُلٌّ کَانُوۡا ظٰلِمِیۡنَ ﴿۵۴﴾
(ان کا حال) فرعون کی آل اور ان لوگوں کے حال کی طرح (ہوا) جو ان سے پہلے تھے، انھوں نے اپنے رب کی آیات کو جھٹلایا تو ہم نے انھیں ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کر دیا اور ہم نے فرعون کی آل کو غرق کیا اور وہ سب ظالم تھے۔ En
جیسا حال فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا (ہوا تھا ویسا ہی ان کا ہوا) انہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کر ڈالا اور فرعونیوں کو ڈبو دیا۔ اور وہ سب ظالم تھے
En
مثل حالت فرعونیوں کے اور ان سے پہلے کے لوگوں کے کہ انہوں نے اپنے رب کی باتیں جھٹلائیں۔ پس ان کے گناہوں کے باعﺚ ہم نے انہیں برباد کیا اور فرعونیوں کو ڈبو دیا۔ یہ سارے ﻇالم تھے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

54۔ ان لوگوں کا معاملہ بھی آل فرعون جیسا ہے اور ان لوگوں جیسا جو ان سے پہلے تھے۔ انہوں نے اپنے پروردگار کی آیات کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کر دیا اور فرعون کی قوم کو غرق کر دیا [57۔ 1] اور یہ سب ہی ظالم لوگ تھے
[57۔ 1] یعنی ان کفار مکہ سے پہلے ہم نے آل فرعون پر اور بہت سی دوسری اقوام پر انعامات کی بارش کی تھی۔ لیکن انہوں نے ان انعامات کی ناقدری کی۔ ان کی نیتوں میں فتور آ گیا۔ اللہ کا شکر ادا کرنے اور اس کی فرمانبرداری کرنے کے بجائے وہ اس کی نافرمانی اور سرکشی پر اتر آئے تھے۔ لہٰذا ہم نے انہیں ان کے گناہوں کی پاداش میں تباہ و برباد کر ڈالا اور آل فرعون کو تو سمندر میں ڈبو کر ان کا نام و نشان تک ختم کر ڈالا۔ یہ سب قومیں نافرمان تھیں اور سب ہی ہلاک کر دی گئی تھیں تو اب کیا یہ کافر اپنے انجام بد سے محفوظ رہ سکتے ہیں؟