یہ اس لیے کہ اللہ کبھی وہ نعمت بدلنے والا نہیں جو اس نے کسی قوم پر کی ہو، یہاں تک کہ وہ بدل دیں جو ان کے دلوں میں ہے اور اس لیے کہ اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
En
یہ اس لیے کہ جو نعمت خدا کسی قوم کو دیا کرتا ہے جب تک وہ خود اپنے دلوں کی حالت نہ بدل ڈالیں خدا اسے نہیں بدلا کرتا۔ اور اس لیے کہ خدا سنتا جانتا ہے
یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کہ کسی قوم پر کوئی نعمت انعام فرما کر پھر بدل دے جب تک کہ وه خود اپنی اس حالت کو نہ بدل دیں جو کہ ان کی اپنی تھی اور یہ کہ اللہ سننے واﻻ جاننے واﻻ ہے
En
53۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ اگر اللہ کسی قوم کو نعمت سے نوازے تو وہ اس نعمت کو اس وقت تک ان سے نہیں بدلتا جب تک کہ وہ قوم خود اپنے طرز عمل [57] کو بدل نہیں دیتی اور اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے
[57] نیت کے فتور سے نعمت چھن جاتی ہے:۔
اس آیت کے الفاظ بڑے وسیع معنی رکھتے ہیں اور اس کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں مثلاً ایک یہ کہ ’ما‘ کو کسی قوم کی خوشحالی پر محمول کیا جائے۔ اس صورت میں اس کے وہی معنی ہیں جو ترجمہ میں کئے گئے ہیں۔ البتہ مَابِاَنْفُسِہِمْ کا معنی طرز عمل کے بجائے نیت کا فتور بھی ہو سکتا ہے۔ یعنی جب تک کوئی قوم اللہ تعالیٰ کی فرمانبردار بن کر رہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے وہ نعمت نہیں چھینتا، پھر جب ان لوگوں کی نیتوں میں فتور آگیا یا بگاڑ پیدا ہو گیا۔ تو اللہ تعالیٰ کی نعمت بھی ان سے چھین لی جاتی ہے۔ اور اگر ”ما“ کو کسی قوم کی بدحالی اور مصائب پر محمول کیا جائے تو اس کا یہ مطلب ہو گا کہ جو قوم بدحالی اور مصائب کا شکار ہے۔ جب تک وہ خود اپنی اس پریشانی اور بدحالی کو بدلنے کی کوشش نہ کرے گی۔ اللہ بھی انہیں اسی حال میں رہنے دیتا ہے اور اس کی بدحالی کو دور نہیں کرتا جیسا کہ حالی نے کہا ہے خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔