اور کاش! تو دیکھے جب فرشتے ان لوگوں کی جان قبض کرتے ہیں جنھوں نے کفر کیا، ان کے چہروں اور پشتوں پر مارتے ہیں۔ اور جلنے کا عذاب چکھو۔
En
اور کاش تم اس وقت (کی کیفیت) دیکھو۔ جب فرشتے کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ان کے مونہوں اور پیٹھوں پر (کوڑے اور ہتھوڑے وغیرہ) مارتے (ہیں اور کہتے ہیں) کہ (اب) عذاب آتش (کا مزہ) چکھو
50۔ کاش آپ اس حالت کو دیکھتے جب فرشتے ان مقتول [55] کافروں کی روحیں قبض کر رہے تھے تو ان کے چہرے اور ان کی پشتوں پر ضربیں لگاتے تھے اور (کہتے تھے کہ) ”اب جلانے والے عذاب کا مزا چکھو
[55] ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس کا یہی مطلب ہے کہ اس آیت میں روئے سخن ان کافروں کی طرف ہے جو غزوہ بدر میں مارے گئے تھے جیسا کہ ترجمہ میں ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم اس کا حکم عام ہے۔ اور سب کافروں سے ایسا معاملہ پیش آسکتا ہے کہ ان کی موت کے وقت فرشتے ان کے چہروں اور پشتوں پر چوٹیں بھی لگائیں اور جہنم کے عذاب کی نوید بھی سنائیں اور کہیں کہ یہ سزا تمہیں تمہارے ہی شامت اعمال سے مل رہی ہے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کو تمہیں سزا دینے کا کوئی شوق نہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔