ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأنفال (8) — آیت 5

کَمَاۤ اَخۡرَجَکَ رَبُّکَ مِنۡۢ بَیۡتِکَ بِالۡحَقِّ ۪ وَ اِنَّ فَرِیۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ لَکٰرِہُوۡنَ ۙ﴿۵﴾
جس طرح تیرے رب نے تجھے تیرے گھر سے حق کے ساتھ نکالا، حالانکہ یقینا مومنوں کی ایک جماعت تو ناپسند کرنے والی تھی۔ En
(ان لوگوں کو اپنے گھروں سے اسی طرح نکلنا چاہیئے تھا) جس طرح تمہارے پروردگار نے تم کو تدبیر کے ساتھ اپنے گھر سے نکالا اور (اس وقت) مومنوں ایک جماعت ناخوش تھی
En
جیسا کہ آپ کے رب نے آپ کے گھر سے حق کے ساتھ آپ کو روانہ کیا اور مسلمانوں کی ایک جماعت اس کو گراں سمجھتی تھی En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

5۔ جیسے کہ آپ کا پروردگار آپ کو آپ کے گھر سے (جنگ بدر کے موقع پر) حق کام کے لئے [8] نکال لایا تھا (مسلمانوں کو بھی ایسے ہی نکلنا چاہئے تھا) حالانکہ مومنوں کا ایک گروہ اس بات کو پسند نہیں کرتا تھا
[8] جنگ بدر کا پس منظر:۔
اموال غنیمت کے متعلق فیصلہ کرنے اور مومن کو پند و نصائح کے بعد اب یہ بتلایا جا رہا ہے کہ غزوہ بدر کی ابتداء کن حالات میں اور کیسے ہوئی۔ صورت حال یہ تھی کہ کفار مکہ کے ظلم و ستم سے مجبور ہو کر اور لٹ پٹ کر مسلمان ہجرت کر کے مدینہ آگئے تھے۔ مگر ان کفار نے پھر بھی مسلمانوں کا پیچھا نہ چھوڑا اکا دکا ناکام سے حملے بھی کر چکے تھے اور آئندہ مسلمانوں کے مکمل طور پر استیصال کی تدبیریں سوچ رہے تھے۔ ان حالات میں مسلمانوں نے یہ سوچا کہ قریش کی تجارتی شاہراہ کی ناکہ بندی کر دی جائے چنانچہ اس غرض کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شاہراہ کے قریب بسنے والے قبائل سے معاہدے بھی کئے، ان میں سے بعض قبائل تو مسلمانوں کے حلیف بن گئے اور بعض سے غیر جانبدار رہنے کا معاہدہ کیا گیا۔ اور اس ناکہ بندی سے مقصود یہ تھا کہ اس تجارت سے کمایا ہوا مال جو مسلمانوں کے استیصال پر خرچ ہونا ہے اس پر مسلمان کنٹرول کر سکیں۔ دوسرے ان مشرکوں نے مسلمانوں کو بے سرو سامانی کی حالت میں ہجرت کرنے پر مجبور کیا اور بعد میں ان کی جائیدادوں پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔ پھر انہی جائیدادوں کو بیچ کر ان سے اس تجارتی قافلہ کے لیے سرمایہ مہیا کیا گیا تھا۔ اور طے یہ ہوا تھا کہ اس تجارتی قافلہ کا منافع تو مسلمانوں کے استیصال پر خرچ کیا جائے۔ اور اصل زر ان لوگوں کو واپس کر دیا جائے جنہوں نے مسلمانوں کی جائیدادیں فروخت کر کے سرمایہ لگایا تھا۔ اس طرح وہ گویا مسلمانوں پر دوہرا ظلم ڈھا رہے تھے۔ اور ان واقعات کی خبریں مدینہ بھی پہنچ رہی تھیں۔ لہٰذا مسلمانوں کے لیے اس قافلہ کی ناکہ بندی ضروری ہو گئی تھی۔ چنانچہ 2 ھ میں قریش کا یہی قافلہ ابو سفیان کی سر کردگی میں شام سے واپس مکہ جا رہا تھا۔ اس قافلہ کے محافظ تو صرف چالیس پچاس آدمی تھے۔ جبکہ یہ قافلہ ایک ہزار بار بردار اونٹوں پر مشتمل تھا اور تقریباً پچاس ہزار دینار کا مال لے کر مکہ جا رہا تھا۔ مسلمانوں نے ارادہ کیا کہ اس قافلہ پر حملہ کر دیا جائے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے۔
قافلہ پر حملہ کی تیاری:۔
سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسیسہ کو جاسوس بنا کر بھیجا تاکہ وہ معلوم کر کے آئیں کہ ابو سفیان کا قافلہ کس حال میں ہے۔ بسیسہ جب واپس آئے تو اس وقت گھر میں میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی نہ تھا۔ بسیسہ نے خبر سنائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے اور فرمایا: ”ہمیں قافلہ کی طلب ہے۔ لہٰذا جس کے پاس سواری ہو وہ ہمارے ساتھ چلے۔ بعض لوگوں نے دور کے مقام سے اپنی سواریاں لانے کی اجازت طلب کی۔ آپ نے فرمایا: نہیں جس کی سواری حاضر ہے وہ چلیں۔ پھر آپ صحابہؓ کے ساتھ روانہ ہو گئے۔“ [مسلم، كتاب الاماره، باب ثبوت الجنة للشهيد]
ابو جہل کا جنگ پر اصرار:۔
اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کی غرض سے کسی کو شامل ہونے کی دعوت نہیں دی تھی۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر سے نکال لانے میں اللہ کی حکمت یہ تھی کہ کافروں سے مڈ بھیڑ ہو اور حق و باطل کا معرکہ بپا ہو۔ چنانچہ حالات کا پانسہ یوں بدلا کہ ابو سفیان کو بھی مسلمانوں کے اس ارادہ کی خبر ہو گئی تو اس نے قافلہ کی حفاظت کے لیے ایک تیز رفتار سوار کو مکہ بھیج کر کفار مکہ کو مسلمانوں کے اس ارادہ سے مطلع کر دیا۔ چنانچہ ایک ہزار آدمیوں پر مشتمل لشکر ابو جہل کی سر کردگی میں اس تجارتی قافلہ کی حفاظت کے لیے روانہ ہو گیا۔ اب اللہ تعالیٰ کا کرنا یہ ہوا کہ ابو سفیان اپنی راہ بدل کر خیر خیریت سے واپس مکہ مکرمہ پہنچ گیا اور کافروں کا یہ لشکر میدان بدر تک جا پہنچا۔ وہاں پہنچ کر ان لوگوں کو بھی خبر مل گئی کہ تجارتی قافلہ بخیریت مکہ پہنچ گیا ہے۔ لہٰذا کچھ لوگوں کی رائے یہ ہوئی کہ اب ہمیں واپس مکہ چلے جانا چاہیے کیونکہ جس مقصد سے ہم آئے تھے وہ پورا ہو چکا۔ لیکن ابو جہل اس بات پر مصر تھا کہ یہاں تک تو یہ لشکر پہنچ ہی چکا ہے اور مسلمان بھی آپہنچے ہیں تو اب ان سے جنگ کر کے اور ان کا استیصال کر کے ہی جانا چاہیے۔ اس طرح اس معرکہ حق و باطل کے لیے فضا سازگار بن گئی۔