اور جب وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، تیرے خلاف خفیہ تدبیریں کر رہے تھے، تا کہ تجھے قید کر دیں، یا تجھے قتل کر دیں، یا تجھے نکال دیں اور وہ خفیہ تدبیرکر رہے تھے اور اللہ بھی خفیہ تدبیر کر رہا تھا اور اللہ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔
En
اور (اے محمدﷺ اس وقت کو یاد کرو) جب کافر لوگ تمہارے بارے میں چال چل رہے تھے کہ تم کو قید کر دیں یا جان سے مار ڈالیں یا (وطن سے) نکال دیں تو (ادھر تو) وہ چال چل رہے تھے اور (اُدھر) خدا چال چل رہا تھا۔ اور خدا سب سے بہتر چال چلنے والا ہے
اور اس واقعہ کا بھی ذکر کیجئے! جب کہ کافر لوگ آپ کی نسبت تدبیر سوچ رہے تھے کہ آپ کو قید کر لیں، یا آپ کو قتل کر ڈالیں یا آپ کو خارج وطن کر دیں اور وه تو اپنی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیر کر رہا تھا اور سب سے زیاده مستحکم تدبیر واﻻ اللہ ہے
En
30۔ اور (اے نبی وہ وقت یاد کرو) جب کافر آپ کے متعلق خفیہ تدبیریں سوچ رہے تھے کہ آپ کو قید کر دیں، یا مار ڈالیں یا جلا وطن کر دیں۔ وہ بھی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ بھی [31] تدبیر کر رہا تھا اور اللہ ہی سب سے اچھی تدبیر کرنے والا ہے
[31] آپﷺ کو قید، جلاوطن یا قتل کرنے کا مشورہ:۔
جب کچھ مسلمان ہجرت کر کے مدینہ چلے آئے تو کفار مکہ کو خطرہ لاحق ہوا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہاں مکہ سے ہمارے ہاتھوں سے نکل گیا تو پھر یہ خطرہ ہمارے قابو سے نکل جائے گا۔ لہٰذا جیسے بھی ممکن ہو اس کا علاج فوری طور پر سوچنا چاہیے۔ اس غرض کے لیے انہوں نے دار الندوہ میں میٹنگ کی اور شرکائے مجلس سے تجاویز و آراء طلب کی گئیں۔ کسی نے کہا کہ اسے پابہ زنجیر کر کے قید کر دیا جائے۔ شیطان جو خود اس میٹنگ میں انسانی صورت میں حاضر ہوا تھا کہنے لگا: یہ تجویز درست نہیں۔ کیونکہ اس کے پیروکار اس کے اس قدر جانثار ہیں کہ وہ اپنی جانیں خطرہ میں ڈال کر بھی اس کو کسی نہ کسی وقت چھڑا لے جانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ دوسرے نے کہا اسے یہاں سے جلاوطن کر دیا جائے۔ اس سے یہ فائدہ ہو گا کہ کم از کم ہم تو ہر روز کی بک بک سے نجات پا جائیں گے۔ شیطان نے کہا یہ تجویز بھی درست نہیں۔ کیونکہ اس شخص کے کلام اور بیان میں اتنا جادو ہے کہ وہ جہاں جائے گا وہیں اس کے جانثار پیدا ہو جائیں گے۔ پھر وہ انہیں لے کر کسی وقت بھی آپ پر حملہ آور ہو سکتا ہے۔ بعد میں ابو جہل بولا کہ ہم سب قبائل میں سے ایک ایک نوجوان لے لیں اور یہ سب مل کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر یکبارگی حملہ کر کے اسے جان سے ہی ختم کر دیں۔ اب یہ تو ظاہر ہے کہ بنو عبد مناف سب قبیلوں سے لڑائی کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ لامحالہ خون بہا پر فیصلہ ہو گا جو سب قبائل مل کر حصہ رسدی ادا کر دیں گے۔ یہ رائے سن کر شیطان کی آنکھوں میں چمک پیدا ہو گئی اور اس نے اس رائے کو بہت پسند کیا۔ پھر اس کام کے لیے وقت بھی اسی مجلس میں مقرر ہو گیا کہ فلاں رات یہ سب نوجوان مل کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کر لیں اور جب باہر نکلے تو سب یکبارگی اس پر حملہ کر کے اس کا کام تمام کر دیں۔
آپﷺ کی ہجرت کا فوری سبب:۔
ادھر یہ مشورے ہو رہے تھے ادھر اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اپنے نبی کو اس مجلس کی کار روائی سے مطلع کر دیا اور ہجرت کی اجازت بھی دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کڑکتی دوپہر میں، جب لوگ عموماً آرام کر رہے ہوتے ہیں، چھپتے چھپاتے سیدنا ابو بکر صدیقؓ کے گھر گئے اور انہیں بتلایا کہ ہجرت کی اجازت مل گئی ہے سیدنا ابو بکر صدیقؓ پہلے ہی اس موقع کے منتظر بیٹھے تھے۔ چنانچہ سیدنا ابو بکر صدیقؓ کے ہمراہ چھپتے چھپاتے غار ثور تک پہنچ گئے۔ (اس کی تفصیل کسی اور مقام پر آئے گی) اسی رات قاتلوں کے گروہ نے آپ کا محاصرہ کرنے کا پروگرام بنا رکھا تھا۔ وہ بروقت اپنی ڈیوٹی پر پہنچ گئے۔ جب صبح تک آپ گھر سے نہ نکلے تو پھر وہ خود اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ سیدنا علیؓ کے سوا کوئی موجود نہیں اور جب انہیں معلوم ہوا کہ آپ جا چکے ہیں تو ان کی برہمی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ کیونکہ اللہ نے ان کی اس پورے ہاؤس کی منظور کردہ تدبیر کو بری طرح ناکام بنا دیا تھا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔