ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأنفال (8) — آیت 28

وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَاۤ اَمۡوَالُکُمۡ وَ اَوۡلَادُکُمۡ فِتۡنَۃٌ ۙ وَّ اَنَّ اللّٰہَ عِنۡدَہٗۤ اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ ﴿٪۲۸﴾
اور جان لو کہ تمھارے مال اور تمھاری اولاد ایک آزمائش کے سوا کچھ نہیں اور یہ کہ اللہ، اسی کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔ En
اور جان رکھو کہ تمہارا مال اور اولاد بڑی آزمائش ہے اور یہ کہ خدا کے پاس (نیکیوں کا) بڑا ثواب ہے
En
اور تم اس بات کو جان رکھو کہ تمہارے اموال اور تمہاری اوﻻد ایک امتحان کی چیز ہے۔ اور اس بات کو بھی جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے پاس بڑا بھاری اجر ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

28۔ اور جان لو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد [29] تمہارے لئے آزمائش ہیں اور اللہ کے ہاں اجر دینے کو بہت کچھ ہے
[29] مال اور اولاد سے آزمائش:۔
مال اور اولاد ایسی چیزیں ہیں جن سے انسان کا فطری لگاؤ اور محبت ہوتی ہے اور انہیں کے ذریعہ مسلمان کے ایمان کی آزمائش ہوتی ہے اور یہ آزمائش ایسی پر خطر ہوتی ہے کہ انسان کو احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ آزمائش میں پڑا ہوا ہے۔ سابقہ آیت کی طرح یہ آیت بھی اپنے اندر بڑا وسیع مفہوم رکھتی ہے۔ پھر ان میں سے مال کا فتنہ اولاد کے فتنہ سے شدید ہوتا ہے۔ جیسا درج ذیل احادیث میں واضح ہے۔
1۔ عمر و بن عوفؓ سے روایت ہے (جو بنی عامر کے حلیف تھے) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہارے محتاج ہونے سے نہیں ڈرتا۔ بلکہ میں تو اس بات سے ڈرتا ہوں کہ دنیا تم پر کشادہ کر دی جائے گی جیسے تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کی گئی تھی۔ پھر تم اس میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنے لگ جاؤ، تو وہ تمہیں اس طرح ہلاک کر دے جیسے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا تھا۔ [بخاری، کتاب المغازی، باب، شہود الملائکۃ بدرا]
نیز: [كتاب الرقاق، باب مايحذر من زهرة الدنيا و التنافس فيها]
2۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر امت کی ایک آزمائش ہے اور میری امت کی آزمائش مال ہے۔ [ترمذي بحواله مشكوة، كتاب الرقاق، دوسري فصل]
3۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا ہے۔ محتاج مہاجرین دولت مند مہاجرین سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔
[ترمذي، ابواب الزهد۔ باب ان فقراء المهاجرين يدخلون الجنة قبل اغنياءهم]
4۔ سیدنا عمران بن حصینؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: میں نے جنت میں جھانکا تو دیکھا کہ وہاں ان لوگوں کی کثرت ہے جو دنیا میں محتاج تھے۔ [بخاري، كتاب الرقاق، باب فضل الفقر]
5۔ مال کا فتنہ: ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (خطبہ ارشاد فرمانے) منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: اپنے بعد میں جس بات سے ڈرتا ہوں وہ یہ ہے کہ زمین کی برکتیں تم پر کھول دی جائیں گی۔ (تم مالدار ہو جاؤ گے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی آرائش کا بیان شروع کیا، پہلے ایک بات بیان کی، پھر دوسری۔ اس دوران ایک شخص کھڑا ہو کر کہنے لگا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا بھلائی سے برائی پیدا ہو گی؟ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے ہم سمجھے کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے اور لوگ ایسے خاموش بیٹھے تھے جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منہ سے پسینہ پونچھا (وحی بند ہوئی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: وہ سائل کہاں ہے جو ابھی پوچھ رہا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کا جواب دیتے ہوئے تین بار فرمایا: ”مال و دولت سے بھلائی ہی نہیں ہوتی۔ پھر فرمایا: بھلائی سے تو بھلائی ہی پیدا ہوتی ہے مگر بہار کے موسم میں جب ہری ہری گھاس پیدا ہوتی ہے (جو ایک نعمت ہے، اس کا زیادہ کھا لینا) جانور کو یا تو مار ڈالتا ہے یا مرنے کے قریب کر دیتا ہے۔ الا یہ کہ جانور اپنی کوکھیں بھرنے کے بعد دھوپ میں جا کھڑا ہو اور پیشاب کرے پھر اس کے ہضم ہو جانے کے بعد اور گھاس چرے اور یہ مال و دولت بھی ہرا بھرا اور شیریں ہے اور بہتر مسلمان وہ ہے جو اپنے حق کے مطابق ہی لے پھر اس میں سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اور یتیموں اور مسکینوں پر خرچ کرے اور جو شخص اپنے حق پر اکتفا نہ کرے اس کی مثال اس کھانے والے کی سی ہے جس کا پیٹ بھرتا ہی نہیں اور یہ مال قیامت کے دن اس کے خلاف گواہی دے گا۔“
[بخاری، کتاب الجہاد، باب فضل النفقہ فی سبیل اللہ]
6۔ ابراہیم بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ عبد الرحمن بن عوفؓ کے سامنے ایک روز کھانا رکھا گیا۔ تو کہنے لگے مصعب بن عمیرؓ جنگ احد میں شہید ہو گئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے ان کے کفن کے لیے ایک چادر ملی اور حمزہ یا کسی اور کا نام لے کر کہا کہ وہ شہید ہوئے اور وہ بھی مجھ سے بہتر تھے ان کے کفن کو بھی صرف ایک چادر تھی۔ میں ڈرتا ہوں کہیں ایسا نہ ہو کہ عیش و آرام کے سامان ہمیں دنیا میں ہی دے دیئے جائیں، یہ کہہ کر رونا شروع کر دیا۔ [بخاري، كتاب الجنائز، باب الكفن من جميع المال]
7۔ سیدنا ابو ذر غفاریؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلا شبہ قیامت کے دن بہت مال و دولت رکھنے والے ہی زیادہ نادار ہوں گے۔ مگر جسے اللہ نے دولت دی اور اس نے اپنے دائیں سے بائیں سے، آگے سے، پیچھے سے ہر طرف سے دولت کو اللہ کی راہ میں لٹا دیا اور اس مال سے بھلائی کمائی۔
[بخاری، کتاب الرقاق، باب المکثرون ہم المقلون]
8۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ عز و جل سے ڈرتا ہو اس کو دولت مندی کا کوئی خطرہ نہیں۔“ [احمد، بحواله مشكوة، باب استحباب المال، فصل ثالث]
اولاد کے ذریعہ آزمائش کیسے ہوتی ہے؟
اور اولاد کے ذریعہ انسان کی آزمائش کا دائرہ مال کی آزمائش سے زیادہ وسیع ہے۔ اولاد اگر کسی کے ہاں نہ ہو تو بھی یہ ایک آزمائش ہے۔ ایسی صورت میں انسان اور بالخصوص عورتیں شرک جیسے بدترین گناہ پر آمادہ ہو جاتی ہیں اور پیروں فقیروں کے مزاروں اور مقبروں کے طواف کرتی اور ان کی منتیں مانتی ہیں اور اگر کسی کے ہاں زیادہ ہو تو وہ دوسری طرح آزمائش ہوتی ہے۔ کفار مکہ میں جو قتل اولاد کا دستور عام رائج تھا تو اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ ہم انہیں کھلائیں گے کہاں سے؟ گویا اولاد کے رزق کا اپنے آپ کو ٹھیکیدار سمجھنا اور اللہ پر قطعاً توکل نہ کرنا بھی شرک سے ملتا جلتا اور بعض پہلوؤں میں اس سے بڑھ کر کبیرہ گناہ ہے۔ پھر اولاد کی تربیت کا مرحلہ آتا ہے تو یہ بھی انسان کے لیے بہت بڑی آزمائش کا وقت ہوتا ہے کہ آیا وہ اپنی اولاد کو دینی تربیت دیتا اور دین کی راہ پر چلاتا ہے یا محض ان کے لئے دنیا کمانے کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور یہ انسان کی زندگی کا ایسا نازک موڑ ہوتا ہے جس کے اچھے یا برے نتائج خود اس کو اس دنیا میں بھگتنا پڑتے ہیں اور آخرت میں تو ان پر سزا و جزا کا مرتب ہونا ایک یقینی بات ہے۔ پھر اس کے بعد اولاد کی آرزوؤں کی تکمیل کا مرحلہ پھر ان کی شادی اور شادی کے سلسلہ میں رشتہ کے انتخاب کا مرحلہ آتا ہے کہ وہ کس قسم کا رشتہ اپنے بیٹے یا بیٹی کے لیے پسند کرتا ہے اور یہ بھی ایسا مرحلہ ہوتا ہے جس کے نتائج انتہائی دور رس ہوتے ہیں اور ایسے ہی مرحلہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شخص اپنی دینداری کے دعویٰ میں کس حد تک سچا اور مخلص ہے اور اسے اللہ اور اس کے رسول سے کس قدر محبت ہے۔ مختصر یہ کہ اولاد کا فتنہ ایسا فتنہ ہے جس کے ذریعہ انسان کی ہر وقت آزمائش ہوتی رہتی ہے۔ پھر بعض دفعہ مال اور اولاد دونوں کے فتنے ایک فتنہ میں مشترک ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ بعض مسلمانوں نے محض مال اور اولاد کی خاطر مدینہ کی طرف ہجرت نہیں کی تھی۔ حالانکہ اگر وہ چاہتے تو ان میں ہجرت کرنے کی استطاعت موجود تھی۔ ان پر جائیداد اور اولاد کی محبت غالب آگئی اور انہوں نے کافروں میں رہنا اور ذلت کی زندگی بسر کرنا گوارا کر لیا۔ ایسے مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں سخت وعید فرمائی ہے۔