ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النازعات (79) — آیت 41

فَاِنَّ الۡجَنَّۃَ ہِیَ الۡمَاۡوٰی ﴿ؕ۴۱﴾
تو بے شک جنت ہی (اس کا) ٹھکانا ہے۔ En
اس کا ٹھکانہ بہشت ہے
En
تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

41۔ تو جنت [27] ہی اس کا ٹھکانا ہو گا
[27] یعنی اس دن ساری مخلوق دو گروہوں میں بٹ جائے گی۔ ایک وہ جو آخرت کے منکر تھے انہیں اللہ کے سامنے پیش ہونے اور اپنے اعمال کی جوابدہی کا نہ کوئی تصور تھا اور نہ خطرہ تھا۔ لہٰذا وہ دنیا کی زندگی کو ہی سب کچھ سمجھ کر اس پر فریفتہ رہے اور آخرت سے بالکل بے فکر بنے رہے ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہو گا۔ وہ جب جہنم پر پہنچیں گے تو فوراً اس میں داخل کر دیئے جائیں گے۔ دوسرے وہ جنہیں آخرت میں اپنے اعمال کی جوابدہی کا ہر وقت خطرہ لا حق رہتا تھا۔ لہٰذا انہوں نے اپنے اخروی مفاد کی خاطر ہر وقت اپنے نفس کی خواہشات کو دبائے رکھا اور اللہ سے ڈرتے ہوئے نہایت محتاط اور ذمہ دارانہ زندگی گزاری ہو گی۔ ایسے ہی لوگ جنت کے حق دار قرار پائیں گے اور انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل کیا جائے گا۔