38۔ جس دن جبرئیل اور باقی سب فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے۔ رحمن سے وہی بات کر سکے گا جسے وہ خود اجازت دے اور جو درست [25] بات کہے
[25]﴿وقال صوابا﴾ کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ سفارش کرنے والا ایسے شخص کے حق میں ہی سفارش کر سکے گا جس نے دنیا میں درست بات کہی ہو گی اور درست بات سے مراد کلمہ توحید یعنی ﴿لا اله الا الله﴾ ہے۔ یعنی سفارش ایسے گنہگار کے حق میں تو کی جا سکے گی جو توحید پر قائم اور اللہ کا فرمانبردار رہا ہو۔ مگر کسی مشرک یا اللہ کے باغی کے حق میں سفارش نہ کی جا سکے گی اور دوسرے مطلب کے لحاظ سے یہ دونوں صفات سفارش کرنے والے کی ہیں۔ یعنی سفارش وہی شخص کر سکے گا جسے اللہ کی طرف سے اجازت ملے گی اور سفارش کرتے وقت وہ درست بات ہی کرے گا جو اللہ کی رضا کے مطابق ہو گی یعنی اللہ تعالیٰ اس گنہگار کے جس جرم کے متعلق سفارش قبول کرنا چاہے گا، سفارش کرنے والا صرف وہی سفارش کرے گا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔