35۔ وہاں نہ کوئی بے ہودہ بات سنیں گے اور نہ جھوٹ [23]
[23] اگر کسی سے پوچھا جائے کہ آیا تم نے جھوٹ بولا تھا تو وہ اس کا جواب یہ دیتا ہے کہ مجھے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی؟ گویا انسان جب جھوٹ بولتا ہے تو کسی ضرورت کے تحت بولتا ہے۔ یہ ضرورت خواہ کسی فائدہ کا حصول ہو یا کسی مصیبت یا تکلیف سے بچنا مقصود ہو۔ انہیں دو باتوں کے لیے وہ جھوٹ بولتا، ایک دوسرے سے الجھتا، لڑائی جھگڑا کرتا اور بیہودہ باتیں کرتا ہے۔ لیکن جنت میں نہ تو کوئی تکلیف پہنچنے کا امکان ہو گا نہ کسی فائدہ کا حصول مطلوب ہو گا کیونکہ ہر طرح کی نعمتیں تو انہیں پہلے ہی سے میسر ہوں گی۔ لہٰذا جنت میں جھوٹ، چغلی، غیبت اور دوسری بیہودہ باتوں کی کبھی ضرورت ہی پیش نہ آئے گی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں