ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النبأ (78) — آیت 3

الَّذِیۡ ہُمۡ فِیۡہِ مُخۡتَلِفُوۡنَ ؕ﴿۳﴾
وہ کہ جس میں وہ اختلاف کرنے والے ہیں۔ En
جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں
En
جس کے بارے میں یہ اختلاف کر رہے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ جس میں وہ ایک دوسرے سے اختلاف [2] رکھتے ہیں
[2] دور نبوی میں عقیدہ آخرت کے متعلق کئی طرح کے اختلاف پائے جاتے تھے۔ کچھ لوگ تو دہریے تھے جو سرے سے اللہ کی ہستی کے ہی قائل نہ تھے۔ ان کے لیے عقیدہ آخرت خارج از بحث تھا۔ مشرکین مکہ اللہ کی ہستی کے تو قائل تھے مگر آخرت کے منکر تھے۔ عیسائی آخرت کے تو قائل تھے مگر ان میں سے اکثریت کا عقیدہ یہ تھا کہ اخروی عذاب و ثواب صرف روح پر وارد ہو گا۔ بدن جو گل سڑ چکا ہے اسے دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھایا جائے گا اور کچھ لوگ نظریہ لا ادریت کے قائل تھے یعنی وہ شک و شبہ میں مبتلا تھے۔ ان کے خیال میں یہ دونوں صورتیں ممکنات سے تھیں یعنی یہ بھی ممکن ہے کہ قیامت قائم ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ مرنے کے ساتھ ہی انسان کا قصہ پاک ہو جائے۔ اور قیامت کا نظریہ محض ایک قیاسی اور وہمی نظریہ ہو۔ ان سب اختلافات کے باوجود یہ لوگ عملاً اور نتیجہ کے لحاظ سے آخرت کے منکر تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو آخرت کے منکر ہونے کی وجہ سے کافر ہی قرار دیا ہے۔