ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النبأ (78) — آیت 1

عَمَّ یَتَسَآءَلُوۡنَ ۚ﴿۱﴾
کس چیز کے بارے میں وہ آپس میں سوال کر رہے ہیں؟ En
(یہ) لوگ کس چیز کی نسبت پوچھتے ہیں؟
En
یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

1۔ کس چیز کے متعلق وہ آپس میں سوال [1] کرتے ہیں؟
[1] کفار مکہ کے نزدیک قیامت کا تصور اور نظریہ ایک عجوبہ چیز تھی۔ جب قرآن نے ببانگ دہل یہ اعلان کیا کہ قیامت فی الواقع آنے والی ہے اور تمہیں تمہارے مٹی میں گل سڑ جانے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے تمہارے اعمال کی باز پرس کی جائے گی تو اس کا مذاق اڑانے لگے۔ وہ مسلمانوں اور پیغمبر اسلام کے سامنے آپس میں ہی گفتگو کرتے کہ بھئی یہ قیامت کیا بلا ہے؟ ہم مٹی میں مل جانے کے بعد کیونکر زندہ ہو سکتے ہیں؟ آج تک تو کوئی مرا ہوا زندہ ہوا نہیں۔ پھر یہ کیسی انہونی بات ہے اور یہ آئے گی کب؟ یہی وہ سوالات تھے جو ان کی دلچسپی کا موضوع بنے ہوئے تھے۔ وہ مسلمانوں سے بھی، نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اور آپس میں بھی ایسے سوالات کرتے رہتے تھے اور اس بات سے ان کا مقصد مسلمانوں کو چڑانا ہوتا تھا۔