[2] بعض مفسرین نے ﴿فَالْمُلْقِيٰتِذِكْرًا﴾ سے بھی ہوائیں ہی مراد لی ہیں۔ کیونکہ آواز بھی ہوا کے ذریعہ ہی لوگوں کے کانوں تک پہنچتی ہے اگر ہوا نہ ہوتی تو وحی کی آواز نہ لوگوں کے کانوں میں پڑ سکتی تھی اور نہ ہی اس سے وہ کچھ نصیحت حاصل کر سکتے تھے اور بعض مفسرین نے اس سے مراد فرشتے لیے ہیں جو وحی کو پیغمبروں کے دلوں میں ڈالتے ہیں۔ یا دوسرے لوگوں کے دلوں میں القاء و الہام کا سبب بنتے ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔