48۔ اور جب انہیں (اللہ کے آگے) جھکنے کو کہا جاتا تھا تو وہ [27] نہیں جھکتے تھے
[27] اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جب انہیں اللہ کی آیات اور اس کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کو کہا جاتا تو وہ تسلیم کرنے کے بجائے اکڑ بیٹھتے تھے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب انہیں نماز کے لیے کہا جاتا تو انکار کر دیتے تھے۔ کہتے ہیں کہ یہ آیت قبیلہ بنو ثقیف کے حق میں نازل ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز ادا کرنے کا حکم دیا تو کہنے لگے کہ نماز میں تو جھکنا پڑتا ہے اور جھکنے میں ہمیں شرم محسوس ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے اس دن تباہی ہی تباہی ہے۔ ایسے لوگ قیامت کے دن اللہ کے حضور سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن کر نہ سکیں گے۔ ان کی پشتوں کے پٹھے اکڑ جائیں گے جیسا کہ سورۃ القلم کی آیت نمبر 42 اور 43 میں پہلے گزر چکا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔