24۔ لہٰذا آپ اپنے پروردگار کے حکم کے مطابق صبر کیجیے اور ان میں سے کسی گنہگار [28] یا ناشکرے کی بات نہ مانئے۔
[28] کچھ کافر تو وہ تھے جو قرآن پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر مختلف قسم کے اعتراضات جڑ رہے تھے اور کچھ وہ تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لالچ دے کر مداہنت اور سمجھوتہ کی راہ ہموار کرنا چاہتے تھے۔ ان میں عتبہ بن ربیعہ کا نام بالخصوص قابل ذکر ہے۔ جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی ریاست چاہتے ہیں یا مال و دولت یا کسی حسین لڑکی سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات منظور ہو گی بشرطیکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کام سے باز آجائیں۔ جس کی وجہ سے قریبی رشتہ داروں میں پھوٹ پڑ گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول کو سمجھایا کہ ان میں سے کسی کی بات کو بھی تسلیم نہ کیجیے۔ نہ ان سے بحث میں الجھیے۔ صبر کیجیے اور صبر کے ساتھ اپنا کام کرتے جائیے۔ اپنی منزل کھوٹی نہ کیجیے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں