16۔ شیشے بھی ایسے جو چاندی [18] سے مرکب ہوں گے اور انہیں (منتظمین جنت نے) ایک خاص ترکیب [19] سے بنایا ہو گا
[18] دنیا میں کئی قسم کے شیشے ایجاد ہو چکے ہیں۔ اور ایسی اشیاء بھی جو شیشے کے علاوہ ہونے کے باوجود شیشے کی طرح صاف شفاف بھی ہیں جیسے پلاسٹک کی اشیاء لیکن یہ چیزیں آتش گیر ہوتی ہیں جنت میں چاندی اور اس کے برتنوں کو شیشے کی طرح صاف شفاف بنا دیا جائے گا اور یہ صنعت دنیا میں آج تک ایجاد نہیں ہو سکی اور شاید آئندہ بھی نہ ہو سکے۔ [19] اس کا ایک مطلب تو ترجمہ سے واضح ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان چاندی کے شیشہ نما برتنوں کو اتنی مخصوص مقدار میں ہی بھرا جائے گا۔ جتنی پینے والے کی طلب ہو گی، نہ انہیں اور مانگنے کی ضرورت پیش آئے گی اور نہ ہی یہ صورت ہو گی کہ برتن میں کچھ مشروب بچ جائے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔