[18] یعنی سب سے پہلے پاؤں کی طرف سے جان نکلنا شروع ہوتی ہے۔ جب پنڈلیوں سے جان نکل چکتی ہے تو انسان میں یہ سکت نہیں رہتی کہ وہ ایک پنڈلی کو دوسری سے اٹھا کر الگ کر سکے۔ جب یہ کیفیت طاری ہو جائے تو سمجھ لو کہ سفر آخرت شروع ہو گیا اور میت کا اپنے پروردگار سے ملاقات کا وقت آ گیا۔ بس یہی وقت ہے جس کے لئے کافر بار بار پوچھتے اور اس کی جلدی کا تقاضا کرتے ہیں۔ جس شخص کو موت آگئی تو گویا پوری قیامت کے احوال اس پر منکشف ہونے لگ جاتے ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔