[11] یعنی یہ تحریری اعمال نامہ تو انسان کے سامنے صرف اس لیے رکھا جائے گا کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کو اپنے اچھے یا برے کیے ہوئے اعمال کا پورا پتا ہوتا ہے۔ اور وہ جو حیلے بہانے تراشتا ہے تو محض اس لیے کہ انسان اپنا قصور ماننے کو قطعاً تیار نہیں ہوتا۔ یہ بیسیوں باتیں بنا سکتا ہے۔ حیلے بہانے بنا سکتا ہے۔ مگر اپنا قصور ماننے سے اس کی انا مجروح ہوتی ہے اور وہ اسے موت کے مترادف سمجھتا ہے۔ دنیا میں بھی اس کا یہی حال ہے اور آخرت میں بھی بعض عادی مجرم ایسی باتیں بنانے کی کوشش کریں گے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔