ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ القيامة (75) — آیت 13

یُنَبَّؤُا الۡاِنۡسَانُ یَوۡمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَ ﴿ؕ۱۳﴾
اس دن انسان کو بتایا جائے گا جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا۔ En
اس دن انسان کو جو (عمل) اس نے آگے بھیجے اور پیچھے چھوڑے ہوں گے سب بتا دیئے جائیں گے
En
آج انسان کو اس کے آگے بھیجے ہوئے اور پیچھے چھوڑے ہوئے سے آگاه کیا جائے گا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

13۔ اس دن انسان کو بتایا جائے گا کہ اس نے آگے کیا بھیجا [10] اور پیچھے کیا چھوڑا ہے
[10] مرنے کے بعد اعمالنامہ میں درج ہونے والے اعمال :۔
اس دن ہر انسان کا اعمال نامہ اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اس سے اسے از خود یہ معلوم ہو جائے گا کہ دنیا میں کون کون سے اچھے یا برے اعمال کما کر اپنے ساتھ لایا ہے اور کون کون سے اچھے یا برے اعمال دنیا میں اپنے پیچھے چھوڑ آیا تھا۔ جن کا اچھا یا برا بدلہ اس کے مرنے کے بعد بھی اس کے اعمال نامہ میں درج ہوتا رہا۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:”جس شخص نے اسلام میں کوئی نیک بات جاری کی اس کے لیے اس کے اپنے عمل کا بھی ثواب ہے اور جو لوگ اس کے بعد اس بات پر عمل کریں ان کا بھی ثواب ہے بغیر اس کے کہ ان لوگوں کا ثواب کچھ کم ہو اور جس نے اسلام میں کوئی بری طرح ڈالی اس پر اس کے اپنے عمل کا بھی بار ہے اور ان لوگوں کا بھی جو اس کے بعد عمل کریں بغیر اس کے کہ ان لوگوں کا بار کچھ کم ہو“ [مسلم۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب الحث علی الصدقۃ۔۔]
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل موقوف ہو جاتا ہے مگر تین چیزوں کا ثواب اسے ملتا رہتا ہے ایک صدقہ جاریہ کا جیسے کوئی شخص کوئی چیز رفاہ عامہ کے لیے بنا جائے یا وقف کر جائے۔ دوسرے علم کا جیسے کوئی دینی مدرسہ قائم کر جائے جس سے لوگ فائدہ اٹھاتے رہیں۔ تیسرے ایسی نیک اولاد چھوڑ جائے تو اس کے حق میں دعا کرتی رہے“ [مسلم۔ کتاب الوصیۃ۔ باب ما یلحق الانسان من الثواب بعد وفاتہٖ]