بعض علماء کہتے ہیں کہ جہنم میں مجرموں کو عذاب دینے کے لئے انیس قسم کے فرائض ہیں جن میں سے ہر فرض کی انجام دہی ایک ایک فرشتہ کی سر کردگی میں ہو گی۔ فرشتوں کی قوت کا اندازہ لگانا ہمارے لئے بہت مشکل ہے۔ ایک فرشتہ وہ کام کر سکتا ہے جو لاکھوں آدمی بھی مل کر نہیں کر سکتے۔ لیکن یہ بات ملحوظ خاطر رہنی چاہئے کہ ایک فرشتہ اسی محدود دائرہ میں کام کر سکتا ہے جس میں کام کرنے پر وہ مامور ہے۔ مثلاً ملک الموت لاکھوں آدمیوں کی جان ایک آن میں نکال سکتا ہے مگر عورت کے پیٹ میں ایک بچہ کے اندر جان نہیں ڈال سکتا۔ اسی طرح سیدنا جبرئیلؑ چشم زدن میں آسمانوں سے وحی تو لا سکتے ہیں مگر بارش برسانا ان کا کام نہیں۔ جس طرح کان دیکھ نہیں سکتا اور آنکھ سن نہیں سکتی۔ بلکہ یہ اعضاء وہی کام کر سکتے ہیں جن کے لیے وہ پیدا کیے گئے ہیں اسی طرح جس فرشتے کو اللہ نے جس قسم کا عذاب کرنے پر مامور کیا ہے وہ اسی قسم کا عذاب دے سکے گا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔