ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المدثر (74) — آیت 1

یٰۤاَیُّہَا الۡمُدَّثِّرُ ۙ﴿۱﴾
اے کمبل میں لپٹنے والے! En
اے (محمدﷺ) جو کپڑا لپیٹے پڑے ہو
En
اے کپڑا اوڑھنے والے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

1۔ اے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم !) جو کمبل اوڑھے سو رہے ہو [1]
[1] وحی کی گرانیاری :۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے پہلی جو وحی غار حرا میں نازل ہوئی وہ سورۃ العلق کی ابتدائی پانچ آیات تھیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنا تعارف کرایا کہ وہ خالق کائنات ہے۔ اسی نے آپ کو بھی پیدا کیا ہے اور اسی نے یہ فرشتہ نازل کیا ہے۔ ان آیات میں آپ کو تبلیغ وغیرہ کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑنے والی ذمہ داریوں کے لئے تیار کرنا مقصود تھا۔ فرشتہ جبریل کے ذریعہ نبی کے دل پر جو وحی نازل ہوتی ہے۔ نبی کے لئے سخت تکلیف دہ اور گرانبار ہوتی ہے۔ اس دوران پہلے گھنٹی کی سی آوازیں آنے لگتی ہیں۔ پھر نبی کا اس عالم سے رشتہ کٹ کر عالم بالا سے جڑ جاتا ہے اور اس وحی کا اتنا بار ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض اوقات سردیوں میں وحی کے وقت پسینہ آجاتا تھا۔ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا زید بن ثابتؓ کی ران پر ران رکھے ہوئے تھے کہ وحی کا نزول شروع ہوا۔ سیدنا زید کہتے ہیں کہ میں نے اس کا اتنا بوجھ محسوس کیا کہ مجھے ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ نیچے سے میری ران ٹوٹ جائے گی۔ اور ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی پر سوار تھے۔ وحی نازل ہونا شروع ہوئی تو اس کے بوجھ اور دباؤ سے اونٹنی نیچے بیٹھ گئی تھی۔ چنانچہ پہلی دفعہ غار حرا میں جب وحی نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود ارشاد فرماتے ہیں کہ اس تکلیف اور بوجھ سے مجھے اپنی جان کا خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔ خیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں گھبرائے ہوئے گھر آئے تو سیدہ خدیجۃ الکبریٰؓ نے آپ کو بہت تسلی دی۔ اس کے بعد کچھ عرصہ وحی کا سلسلہ بند ہو گیا۔ وحی کی تکلیف اور بوجھ کے باوجود اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک عجیب طرح کی لذت بھی محسوس ہوئی تھی۔ اسی لذت کی وجہ سے آپ وحی کے منتظر بھی رہتے تھے۔ بعد ازاں ایک دن درج ذیل واقعہ پیش آیا: سیدنا جابر بن عبد اللہؓ کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وحی بند رہنے کا تذکرہ فرما رہے تھے۔ فرمایا: ایک دفعہ چلتے چلتے میں نے آسمان سے ایک آواز سنی تو آسمان کی طرف اسی فرشتے کو دیکھا جو حرا میں میرے پاس آیا تھا۔ وہ آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا تھا۔ اسے دیکھ کر میں اتنا ڈرا کہ ڈر کے مارے زمین پر گر پڑا۔ پھر اپنے گھر آیا تو گھر والوں سے کہا: ”مجھے کمبل اڑھا دو۔ مجھے کمبل اڑھا دو“ چنانچہ انہوں نے مجھے کمبل اڑھا دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ ﴿يَايُّهَا الْمُدَّثِّرْ.. فَاهْجُرْ تک۔ ابو سلمہ نے کہا رجز سے بت مراد ہیں۔ اس کے بعد وحی گرم ہو گئی، برابر لگاتار آنے لگی۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]