14۔ اور یہ کہ: ہم میں سے کچھ تو مسلمان (فرمانبردار) ہیں اور کچھ بے انصاف لوگ ہیں اور جو فرمانبردار بن گیا تو ایسے ہی لوگوں نے بھلائی کا راستہ اختیار [12] کیا
[12]﴿تَحَرَّوْا﴾﴿اَحرٰي﴾ بمعنی لائق تر اور ﴿تَحَرَّي﴾ بمعنی زیادہ مناسب اور لائق تر چیز کو طلب کرنا۔ دو چیزوں میں سے زیادہ بہتر کو طلب کرنا۔ یعنی ایمان لانے والے جن اپنی قوم میں واپس آکر انہیں سمجھا رہے ہیں کہ بلا شبہ ہم میں سے کچھ فرمانبردار ہیں اور کچھ نافرمان اور بے راہ رو بھی ہیں۔ اور حق بات یہی ہے کہ جو لوگ اسلام لے آئے انہوں نے عقلمندی کی۔ ہدایت کی راہ کو پسند کر لینا ہی ان کے بہتر انتخاب کی دلیل ہے۔ کیونکہ جو لوگ اس سیدھی راہ کے علاوہ کوئی اور راہیں اختیار کریں گے وہ گھاٹے میں ہی رہیں گے اور جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ اس مقام پر جنوں کی وہ تقریر یا وعظ و نصیحت ختم ہو جاتی ہے جو انہوں نے ایمان لانے کے بعد واپس آکر اپنے بھائی بندوں کو کی۔ چنانچہ بہت سے جن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے پھر اس واقعہ کے بعد متعدد بار جن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔