ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الجن (72) — آیت 13

وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعۡنَا الۡہُدٰۤی اٰمَنَّا بِہٖ ؕ فَمَنۡ یُّؤۡمِنۡۢ بِرَبِّہٖ فَلَا یَخَافُ بَخۡسًا وَّ لَا رَہَقًا ﴿ۙ۱۳﴾
اور یہ کہ ہم نے جب ہدایت سن لی، ہم اس پر ایمان لے آئے، پھر جو کوئی اپنے رب پر ایمان لائے گا تو وہ نہ کسی نقصان سے ڈرے گا نہ کسی زیادتی سے۔ En
اور جب ہم نے ہدایت (کی کتاب) سنی اس پر ایمان لے آئے۔ تو جو شخص اپنے پروردگار پر ایمان لاتا ہے اس کو نہ نقصان کا خوف ہے نہ ظلم کا
En
ہم تو ہدایت کی بات سنتے ہی اس پر ایمان ﻻئے چکے اور جو بھی اپنے رب پر ایمان ﻻئے گا اسے نہ کسی نقصان کا اندیشہ ہے نہ ﻇلم وستم کا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

13۔ اور یہ کہ: جب ہم نے ہدایت (کی بات) سن [10] لی تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اب جو شخص بھی اپنے پروردگار پر ایمان لائے گا اسے نہ حق تلفی [11] کا ڈر ہو گا اور نہ زبردستی کا
[10] یعنی قرآن کو سن لینے کے بعد ہمارے لئے ممکن نہ رہا کہ ہم اپنے ساتھ غلط عقائد پر جمے رہیں۔ لہٰذا ہم نے اپنی قوم میں سب سے پہلے ایمان لانے میں سبقت کی ہے۔
[11] یہ سب وہ اہم نکات ہیں جو جنوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن سن کر اخذ کئے تھے۔ پھر ایمان لانے کے بعد اپنی قوم کے پاس جا کر انہیں بتائے تھے۔ انہی میں سے یہ نکتہ جزا و سزا کے قانون سے تعلق رکھتا ہے۔ حق تلفی سے مراد یہ ہے کہ جتنے اجر کا وہ مستحق ہو اسے اس سے کم دیا جائے اور زبردستی سے مراد یہ ہے کہ اسے نیکی کا کوئی اجر نہ دیا جائے۔ یا بلا قصور ہی کسی کو سزا دے ڈالی جائے۔ یا قصور تو کم ہو مگر سزا زیادہ دے ڈالی جائے۔ کسی ایمان لانے والے کے لیے اللہ کے ہاں ایسی کوئی صورت نہ ہو گی۔