26۔ اور نوح نے کہا: ”اے میرے پروردگار! کافروں میں سے کوئی بھی اس زمین [16] پر بسنے والا نہ چھوڑ
[16] بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نوحؑ نے یہ دعا قوم کے رویہ سے تنگ آکر غصہ کی حالت میں اور بے صبری کی بنا پر کی ہو گی۔ جبکہ معاملہ اس کے برعکس ہے آپ نے یہ دعا بے صبری کی بنا پر نہیں بلکہ ساری عمر یعنی ساڑھے نو سو سال کی تبلیغ کے بعد تجربہ کی بنا پر اور نہایت مایوسی کے عالم میں کی تھی۔ اور آپ کی دعا اللہ کی مشیئت کے عین مطابق تھی۔ اگر آپ ایسی دعا نہ بھی کرتے تو بھی ان پر عذاب کا مقرر وقت آ چکا تھا اور اس کی دلیل سورۃ ہود کی آیت 36 ہے جو اس طرح ہے: اور نوحؑ کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے جو لوگ ایمان لا چکے ہیں ان کے سوا اب اور کوئی ایمان لانے والا نہیں ہے لہٰذا اب ان کی کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑ دو۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔