ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ نوح (71) — آیت 26

وَ قَالَ نُوۡحٌ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَی الۡاَرۡضِ مِنَ الۡکٰفِرِیۡنَ دَیَّارًا ﴿۲۶﴾
اور نوح نے کہااے میرے رب! زمین پر ان کافروں میں سے کوئی رہنے والا نہ چھوڑ۔ En
اور (پھر) نوحؑ نے (یہ) دعا کی کہ میرے پروردگار اگر کسی کافر کو روئے زمین پر بسا نہ رہنے دے
En
اور (حضرت) نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے پالنے والے! تو روئے زمین پر کسی کافر کو رہنے سہنے واﻻ نہ چھوڑ En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

26۔ اور نوح نے کہا: ”اے میرے پروردگار! کافروں میں سے کوئی بھی اس زمین [16] پر بسنے والا نہ چھوڑ
[16] بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نوحؑ نے یہ دعا قوم کے رویہ سے تنگ آکر غصہ کی حالت میں اور بے صبری کی بنا پر کی ہو گی۔ جبکہ معاملہ اس کے برعکس ہے آپ نے یہ دعا بے صبری کی بنا پر نہیں بلکہ ساری عمر یعنی ساڑھے نو سو سال کی تبلیغ کے بعد تجربہ کی بنا پر اور نہایت مایوسی کے عالم میں کی تھی۔ اور آپ کی دعا اللہ کی مشیئت کے عین مطابق تھی۔ اگر آپ ایسی دعا نہ بھی کرتے تو بھی ان پر عذاب کا مقرر وقت آ چکا تھا اور اس کی دلیل سورۃ ہود کی آیت 36 ہے جو اس طرح ہے: اور نوحؑ کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے جو لوگ ایمان لا چکے ہیں ان کے سوا اب اور کوئی ایمان لانے والا نہیں ہے لہٰذا اب ان کی کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑ دو۔