ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ نوح (71) — آیت 23

وَ قَالُوۡا لَا تَذَرُنَّ اٰلِہَتَکُمۡ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا ۬ۙ وَّ لَا یَغُوۡثَ وَ یَعُوۡقَ وَ نَسۡرًا ﴿ۚ۲۳﴾
اور انھوں نے کہا تم ہرگز اپنے معبودوںکو نہ چھوڑنا اور نہ کبھی ودّ کو چھوڑنا اور نہ سواع کو اور نہ یغوث اور یعوق اور نسر کو۔ En
اور کہنے لگے کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور ود اور سواع اور یغوث اور یعقوب اور نسر کو کبھی ترک نہ کرنا
En
اور کہا انہوں نے کہ ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو (چھوڑنا) En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

23۔ اور کہا کہ: اپنے خداؤں [14] کو کبھی نہ چھوڑنا، نہ ودّ کو چھوڑنا، نہ سواع کو، 1 نہ یغوث کو، نہ یعوق کو اور نہ نسر کو
[14] نوح کی قوم کے بت عرب میں کیسے رائج ہو گئے :۔
اس آیت کی تفسیر کے لیے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ: جو بت نوحؑ کی قوم میں پوجے جاتے تھے، وہی بعد میں عرب میں آگئے، ودّ کلب قبیلے کا بت تھا جو دومۃ الجندل میں تھا۔ سواع ہذیل قبیلے کا بت تھا، یغوث پہلے مرار قبیلے کا بت تھا پھر بنی غُطَیْفْ کا اور یہ سبا شہر کے پاس جوف میں تھا، یعوق ہمدان قبیلے کا تھا اور نسر حمیَر قبیلے کا، جوذی الکلاع (بادشاہ) کی اولاد تھے۔ یہ نوحؑ کی قوم میں سے چند نیک لوگوں کے نام تھے۔ جب وہ مر گئے تو شیطان نے انہیں یہ پٹی پڑھائی کہ جہاں یہ لوگ بیٹھا کرتے تھے وہاں ان کے مجسمے بنا کر (یادگار کے طور پر) نصب کر دو اور ان کے وہی نام رکھو جو ان بزرگوں کے تھے۔ اس وقت ان کی عبادت نہیں کی جاتی تھی۔ لیکن جب وہ لوگ گزر گئے تو بعد والوں کو یہ شعور نہ رہا اور وہ ان کی پرستش کرنے لگے۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان بتوں کے پجاری یا نوحؑ کی قوم کے سب مشرک تو طوفان نوح میں غرق کر دیئے گئے تھے جو باقی بچے تھے وہ سب مومن اور موحد تھے پھر بعد میں انہی بتوں کی پوجا کیسے شروع ہو گئی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح شیطان نے بچے ہوئے موحدین کے آباء و اجداد کو چکمہ دے کر ان سے ان صالحین کی آہستہ آہستہ پرستش شروع کرادی تھی۔ شیطان کی وہی چال بعد میں کامیاب رہی۔ موحدین نے اپنی اولاد کو طوفان نوح کا قصہ اور اس کی وجہ بیان کی۔ چند پشتیں گزرنے کے بعد انہی بتوں سے لوگوں میں عقیدت پیدا ہو گئی جن کی وجہ سے قوم نوح پر عذاب آیا تھا۔