ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ نوح (71) — آیت 1

اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰی قَوۡمِہٖۤ اَنۡ اَنۡذِرۡ قَوۡمَکَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱﴾
بے شک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا کہ اپنی قوم کو ڈرا، اس سے پہلے کہ ان پر ایک درد ناک عذاب آ جائے۔ En
ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ پیشتر اس کے کہ ان پر درد دینے والا عذاب واقع ہو اپنی قوم کو ہدایت کر دو
En
یقیناً ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ اپنی قوم کو ڈرا دو (اور خبردار کر دو) اس سے پہلے کہ ان کے پاس دردناک عذاب آ جائے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

1۔ ہم نے نوح کو اس کی قوم [1] کی طرف (رسول بنا کر) بھیجا کہ اپنی قوم کو (برے انجام سے) ڈراؤ۔ پیشتر اس کے کہ ان پر ایک دردناک عذاب آئے
[1] سیدنا نوحؑ کا ذکر :۔
سیدنا نوحؑ کا ذکر قرآن میں پہلے بہت سے مقامات پر گزر چکا ہے۔ یہ سورت پوری کی پوری آپ کے ذکر پر مشتمل ہے۔ اس سورت میں آپ کی زندگی کے پورے واقعات مذکور نہیں ہیں۔ بلکہ اس کا اکثر حصہ سیدنا نوح کی اپنے پروردگار سے فریاد اور دعاؤں پر مشتمل ہے۔ آپ کی شبانہ روز کی تبلیغ اور پورے ساڑھے نو سو سال کی تبلیغ کے نتیجہ میں قوم نے آپ کی تبلیغ سے جیسا اثر قبول کیا، اسی کا شکوہ سیدنا نوحؑ اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے بیان فرماتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرکز تبلیغ عراق میں دجلہ و فرات کا درمیانی علاقہ تھا۔ سیدنا آدمؑ اور سیدنا نوحؑ کے درمیان پانچ ہزار سال کا طویل عرصہ حائل ہے اور اس طویل درمیانی عرصہ میں صرف ایک ہی قابل ذکر نبی سیدنا ادریسؑ کا ذکر ہمیں قرآن میں ملتا ہے۔ لیکن وہ بھی صاحب شریعت نبی نہیں تھے۔ جب سیدنا نوحؑ مبعوث ہوئے تو اس وقت ان کی قوم میں شرک کا مرض ایک وبا کی طرح پھیل چکا تھا۔ چنانچہ ان ابتدائی آیات میں ہی سیدنا نوحؑ کو ہدایت کی گئی ہے کہ آپ اپنی قوم کو شرک کے برے انجام سے وارننگ دے دیجئے اور اگر وہ باز نہ آئے تو یقیناً انہیں دردناک سزا سے دوچار ہونا پڑے گا۔