43۔ جس دن وہ اپنی قبروں سے نکل کر اسی طرح دوڑے جا رہے ہوں گے جیسے اپنے بتوں [27] (کے استھانوں) کی طرف دوڑ رہے ہوں
[27] ﴿نصب﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿نُصُبٍ﴾﴿نصب الشئي﴾ بمعنی کسی چیز کو سیدھے رخ کھڑا کر دینا اور زمین میں گاڑ دینا اور نصیب اس پتھر کو بھی کہتے ہیں جو بطور نشان راہ گاڑا جاتا ہے نیز نصیب پتھر یا لوہے کے اس مجسمے کو بھی کہتے ہیں جو کسی جگہ بغرض عبادت نصب کر دیا گیا ہو۔ یہ مجسمے عموماً نبیوں، ولیوں اور پیروں یا بادشاہوں کے ہوتے ہیں۔ اور ایسے مقامات جہاں یہ مجسمے نصب ہوں انہیں بھی نصیب یا تھان یا استھان یا آستانے کہا جات ہے اور نصیب کی جمع نصب یا انصاب آتی ہے۔ گویا نصب کے تین معنی ہوئے۔ (1) نشان راہ کے پتھر، (2) نصب شدہ مجسمے، (3) وہ مقام جہاں مجسمے یا بت نصب ہوں۔ اس آیت میں تینوں معنی مراد ہو سکتے ہیں۔ پہلا معنی اس لحاظ سے کہ ان کا یہ دوڑنا اللہ کے حکم کے تحت اور اضطراری امر ہو گا اور باقی دونوں معنی اس لحاظ سے کہ دنیا میں وہ ایسے بتوں کے مجسموں اور تھانوں کی طرف تیزی سے دوڑ کر جایا کرتے تھے۔ قیامت کے دن بھی وہ اسی طرح تیزی سے دوڑے جا رہے ہوں گے اور اللہ نے ان کے لئے وہی کیفیت بیان فرمائی جس کو وہ خوب جانتے اور اس دنیا میں اس کے عادی تھے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔