37۔ دائیں سے اور بائیں [22] سے گروہ در گروہ (آرہے ہیں)
[22] جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو قرآن سنانے، وعظ و نصیحت کرنے اور احوال قیامت بیان کرنے کے لیے کھڑے ہوتے اور اس مقصد کے لیے آپ عموماً کعبہ اور اس کے آس پاس ہی کھڑے ہوتے تھے۔ کافر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سن کر چاروں طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑے چلے آتے تھے۔ آ کر کبھی شور مچانا شروع کر دیتے، کبھی تالیاں بجاتے، کبھی مذاق اڑاتے تھے اور ان کی ان کرتوتوں سے ان کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ اول تو کوئی شخص قرآن سننے ہی نہ پائے اور اگر کسی کے کان میں کچھ پڑ بھی جائے تو اس کا اثر قبول نہ کرے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔