ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المعارج (70) — آیت 19

اِنَّ الۡاِنۡسَانَ خُلِقَ ہَلُوۡعًا ﴿ۙ۱۹﴾
بلاشبہ انسان تھڑدلا بنایا گیا ہے۔ En
کچھ شک نہیں کہ انسان کم حوصلہ پیدا ہوا ہے
En
بیشک انسان بڑے کچے دل واﻻ بنایا گیا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

19۔ بلا شبہ انسان تھڑ دلا [12] پیدا کیا گیا ہے
[12] ﴿هلوعا﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿هَلُوْعًا بمعنی بے قرار، بے ثبات، ایک حالت پر قائم نہ رہنے والا۔ حالات کی تبدیلی کا فوراً اثر قبول کر لینے والا۔ یعنی انسان فطری طور پر ایسا ہی پیدا ہوا ہے۔ یہ کیفیت ایک عام دنیا دار انسان یا انسانوں کی اکثریت کی ہے۔ اور جو لوگ ایمان لا کر اپنی اصلاح کر لیتے ہیں ان کے دل کی یہ کیفیت نہیں رہتی ان کے دل میں صبر و سکون اور ٹھہراؤ پیدا ہو جاتا ہے۔