ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأعراف (7) — آیت 98

اَوَ اَمِنَ اَہۡلُ الۡقُرٰۤی اَنۡ یَّاۡتِیَہُمۡ بَاۡسُنَا ضُحًی وَّ ہُمۡ یَلۡعَبُوۡنَ ﴿۹۸﴾
اور کیا بستیوں والے بے خوف ہوگئے کہ ہمارا عذاب ان پر دن چڑھے آجائے اور وہ کھیل رہے ہوں۔
اور کیا اہلِ شہر اس سے نڈر ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آ نازل ہو اور وہ کھیل رہے ہوں
اور کیا ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بےفکر ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آپڑے جس وقت کہ وه اپنے کھیلوں میں مشغول ہوں

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

98۔ یا وہ اس بات سے نڈر ہو گئے ہیں کہ چاشت کے وقت ان پر ہمارا عذاب آئے اور وہ کھیل [102] رہے ہوں
[102] ان آیات سے ایک تو یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اللہ کی گرفت یا عذاب دفعۃً آتا ہے، جبکہ لوگ مطلقاً اس سے غافل اور بے خبر ہوتے ہیں خواہ یہ عذاب دن کے وقت آئے جبکہ لوگ اپنے کاروبار، کام کاج یا کھیل تفریح میں مشغول ہوں اور خواہ رات کے وقت آجائے جبکہ وہ غفلت کی نیند سو رہے ہوں۔ یعنی موت کی طرح اس عذاب کا بھی کوئی وقت مقرر نہیں بلکہ موت کے آثار تو بسا اوقات محسوس ہونے لگتے ہیں مگر ایسی گرفت ہمیشہ ناگہانی طور پر آتی ہے اور دوسری یہ بات کہ جب ان لوگوں میں بھی کفر و عصیان اور سرکشی کی وہی امراض و علامات پائی جائیں جن کی بنا پر پہلی قوموں پر عذاب آیا تھا تو آخر ان پر کیوں نہیں آسکتا پھر ان لوگوں کے نڈر ہونے کی کوئی معقول وجہ نہیں۔