ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأعراف (7) — آیت 9

وَ مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِیۡنُہٗ فَاُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ بِمَا کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۹﴾
اور وہ شخص کہ اس کے پلڑے ہلکے ہوگئے تو یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا، اس لیے کہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ناانصافی کرتے تھے۔
اور جن کے وزن ہلکے ہوں گے تو یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے تئیں خسارے میں ڈالا اس لیے کہ ہماری آیتوں کے بارے میں بےانصافی کرتے تھے
اور جس شخص کا پلا ہلکا ہوگا سو یہ وه لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنا نقصان کرلیا بسبب اس کے کہ ہماری آیتوں کے ساتھ ﻇلم کرتے تھے

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

9۔ اور جن کے پلڑے ہلکے [7] ہوئے تو یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خسارہ میں ڈالا۔ کیونکہ وہ ہماری آیتوں سے نا انصافی کیا کرتے تھے
[7] اعمال کا وزن حق کے ساتھ کیسے؟
آیت کے الفاظ یہ ہیں آیت ﴿وَالْوَزْنُ يَوْمَيِٕذِۨ الْحَقُّ [الاعراف: 8] (یعنی اس دن وزن صرف حق یا حقیقت کا ہو گا) یعنی جتنی کسی عمل میں حقیقت ہو گی اتنا ہی وہ عمل وزنی ہو گا مثلاً ایک شخص اپنی نماز نہایت خلوص نیت سے اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس کی رضامندی چاہتے ہوئے خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرتا ہے تو اس کا یہ عمل یقیناً اس شخص کی نماز سے بہت زیادہ وزنی ہو گا جس نے اپنی نماز بے دلی سے، سستی کے ساتھ اور دنیوی خیالات میں مستغرق رہ کر ادا کی اور جس عمل میں حق کا کچھ بھی حصہ نہ ہو گا اس کا وزن کیا ہی نہیں جائے گا، جیسے سورۃ کہف کی آیت نمبر 105 میں مذکور ہے کہ ”جن لوگوں نے اپنے پروردگار کی آیات سے کفر کیا ہو گا ان کے لیے ہم میزان قائم ہی نہیں کریں گے۔“ اور سورۃ فرقان کی آیت نمبر 23 میں فرمایا کہ ”ہم ایسے کافروں کے اعمال کی طرف پیش قدمی کریں گے تو انہیں اڑتا ہوا غبار بنا دیں گے“ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ میزان عدل صرف ان لوگوں کے لیے قائم کی جائے گی جو ایمان لائے تھے اور ان کے اعمال اچھے اور برے، وزنی اور کم وزن والے ملے جلے ہوں گے۔ کافروں کے لیے ایسی میزان قائم کرنے کی ضرورت ہی نہ ہو گی اور ان الفاظ کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اعمال کا حق کے ساتھ وزن کیا جائے گا یعنی فلاں شخص کے فلاں عمل میں حقیقت کتنی تھی۔ اس بات کا فیصلہ بھی نہایت انصاف کے ساتھ کیا جائے گا۔ کتاب و سنت کی تصریحات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اعمال کی میزان (ترازو) ایسی ہی ہو گی جیسی ہمارے استعمال میں آتی ہے، اس کے دو پلڑے ہوں گے ایک میں نیکیاں رکھی جائیں گی اور دوسرے میں برائیاں۔ اس ترازو کی زبان بھی ہو گی زبان سے مراد ترازو کے اوپر کے ڈنڈے کے درمیان میں لگی ہوئی وہ سوئی ہے جو خفیف سے خفیف فرق کو بھی ظاہر کر دیتی ہے اور یہ باتیں صرف ہمارے سمجھانے کے لیے کافی سمجھی گئی ہیں باقی اس کی صحیح کیفیت کیا ہو گی؟ یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ بعض علماء کا قول یہ ہے کہ اس دنیا میں تو اعمال اعراض کی شکل میں ہوتے ہیں لیکن اس دن اعمال کو مجسم کیا جائے گا اور جس عمل میں جس قدر حق ہو گا اسے اتنا ہی بڑا جسم والا اور وزنی بنایا جائے گا پھر انہیں اس ترازو میں تولا جائے گا واللہ اعلم بالصواب۔