ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأعراف (7) — آیت 87

وَ اِنۡ کَانَ طَآئِفَۃٌ مِّنۡکُمۡ اٰمَنُوۡا بِالَّذِیۡۤ اُرۡسِلۡتُ بِہٖ وَ طَآئِفَۃٌ لَّمۡ یُؤۡمِنُوۡا فَاصۡبِرُوۡا حَتّٰی یَحۡکُمَ اللّٰہُ بَیۡنَنَا ۚ وَ ہُوَ خَیۡرُ الۡحٰکِمِیۡنَ ﴿۸۷﴾
اور اگر تم میں سے کچھ لوگ اس پر ایمان لے آئے ہیں جو دے کر مجھے بھیجا گیا ہے اور کچھ لوگ ایمان نہیں لائے تو صبر کرو، یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے۔
اور اگر تم میں سے ایک جماعت میری رسالت پر ایمان لے آئی ہے اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی ہے۔ اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی۔ تو صبر کیے رہو یہاں تک کہ خدا ہمارے تمہارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
اور اگر تم میں سے کچھ لوگ اس حکم پر، جس کو دے کر مجھ کو بھیجا گیا، ایمان لے آئے ہیں اور کچھ ایمان نہیں ﻻئے ہیں تو ذرا ٹھہر جاؤ! یہاں تک کہ ہمارے درمیان اللہ فیصلہ کئے دیتا ہے اور وه سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

87۔ اور اگر تم میں سے ایک فریق ایسا ہے کہ جو کچھ مجھے دے کر بھیجا گیا ہے، اس پر ایمان لے آیا اور دوسرا فریق ایمان نہیں لایا تو صبر کرو [92۔ 1] تا آنکہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
[92۔ 1] شہر میں داخل ہونے والے راستوں پر ان لوگوں کے بیٹھنے کے دو مقاصد تھے ایک یہ کہ جہاں داؤ لگتا مسافروں اور راہ گیروں کو لوٹ لیتے اور دوسرے جو لوگ شہر میں آنا چاہتے انہیں سیدنا شعیبؑ کے پاس جانے سے روکتے بھی تھے، بہکاتے بھی تھے اور دھمکاتے بھی تھے اور کہتے کہ یہ شخص دغا باز اور فریبی ہے اس کا کہنا نہ ماننا نہ اس کی چالوں ہی میں آنا اور آپ کی تعلیم اور شریعت میں سینکڑوں قسم کی جاہلانہ نکتہ چینیاں کرتے اور عیب لگاتے تھے اور سیدنا شعیبؑ پر ایمان لانے والے معدودے چند لوگوں پر طرح طرح کی سختیاں بھی کرتے تھے کہ وہ ان کے دین سے باز آجائیں۔ سیدنا شعیبؑ نے ان لوگوں کو بڑے نرم الفاظ میں پہلے اللہ کے ان پر احسانات یاد دلائے پھر فرمایا کہ اگر چند لوگ ایمان لے آئے ہیں تو انہیں پریشان کیوں کرتے ہو۔ ہم میں سے جو بھی جھوٹا ہے اللہ اس سے خود نمٹ لے گا تھوڑی دیر صبر تو کرو۔