ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأعراف (7) — آیت 81

اِنَّکُمۡ لَتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ شَہۡوَۃً مِّنۡ دُوۡنِ النِّسَآءِ ؕ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ ﴿۸۱﴾
بے شک تم تو عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت سے آتے ہو، بلکہ تم حد سے گزرنے والے لوگ ہو۔
یعنی خواہش نفسانی پورا کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ حد سے نکل جانے والے ہو
تم مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو عورتوں کو چھوڑ کر، بلکہ تم تو حد ہی سے گزر گئے ہو

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

81۔ تم شہوت رانی کے لئے عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس آتے ہو۔ تم تو حد سے بڑھے [86] ہوئے لوگ ہو
[86] عمل قوم لوط غیر فطری اور حیوانی سطح سے بھی گرا ہوا فعل ہے:۔
اس لیے کہ یہ فعل فطرت کی وضع کے خلاف ہے اور مرد اور عورت کے جنسی اعضاء کی ساخت ان کے اس فعل بد کی تردید کا کھلا ہوا ثبوت ہے سوا ازیں انسانوں کے علاوہ دوسرے جانور خواہ وہ درندے ہوں یا پالتو ہوں یا پرندے ہوں کوئی بھی ایسی مذموم حرکت نہیں کرتا کہ نر، نر پر کودنے لگے جس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان حیوانات کی سطح سے بھی نیچے اتر آیا ہے۔ اب دیکھیے اگر مرد، مردوں سے اپنی شہوانی اغراض پوری کر لیں تو ایسے معاشرے میں عورتوں کی کیا حیثیت رہ جائے گی۔ اس کے علاوہ اگر عورتیں بھی عورتوں سے لپٹ کر یا کسی دوسرے جانور مثلاً کتے وغیرہ سے اپنی شہوت پوری کر لیں تو گویا سارا معاشرہ فحاشی کے سمندر میں ڈوب جائے گا۔ پھر انسان کی نسل آگے کیسے چلے گی؟ کیا یہ اپنی قوم کو اپنے ہاتھوں تباہ کرنے ہی کا ذریعہ نہیں؟ یہ تو ایسے واضح نتائج ہیں جو ایسے معاشرے کا تصور کرنے سے ہی سامنے آ جاتے ہیں اور جو اس کے دور رس نتائج ہیں وہ بے شمار ہیں۔