ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأعراف (7) — آیت 80

وَ لُوۡطًا اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِہٖۤ اَتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَکُمۡ بِہَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنَ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۸۰﴾
اور لوط کو (بھیجا)، جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا تم اس بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو تم سے پہلے جہانوں میں سے کسی نے نہیں کی۔
اور اسی طرح جب ہم نے لوط کو (پیغمبر بنا کر بھیجا تو) اس وقت انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ایسی بےحیائی کا کام کیوں کرتے ہو کہ تم سے اہل عالم میں سے کسی نے اس طرح کا کام نہیں کیا
اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسا فحش کام کرتے ہو جس کو تم سے پہلے کسی نے دنیا جہان والوں میں سے نہیں کیا

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

80۔ اور لوط نے جب اپنی قوم [85] سے کہا: ”تم بے حیائی کا وہ کام کرتے ہو جو تم سے پہلے اہل عالم میں سے کسی نے بھی نہیں کیا تھا
[85] سیدنا لوطؑ کا مرکز تبلیغ:۔
سیدنا لوطؑ سیدنا ابراہیمؑ خلیل اللہ کے بھتیجے تھے اور ان پر ایمان لائے تھے۔ سیدنا ابراہیمؑ نے جب عراق سے شام و فلسطین کی طرف ہجرت کی تو سیدنا لوطؑ ان کے ساتھ تھے اور بطور معاون تبلیغ رسالت کا فریضہ سر انجام دیتے رہے پھر آپ کو بھی نبوت عطا ہوئی اب سیدنا ابراہیمؑ تو مصر کی طرف چلے گئے اور سیدنا لوطؑ کو شرق اردن کی طرف بھیج دیا جس کا صدر مقام سدوم نامی شہر تھا یہی سیدنا لوطؑ کا مرکز تبلیغ تھا۔ سدوم کا آج کہیں نام و نشان نہیں ملتا۔ اغلب گمان یہی ہے کہ یہ شہر بحیرہ مردار میں غرق ہو چکا ہے جسے بحر لوط بھی کہا جاتا ہے۔ قوم لوط میں دوسری اخلاقی برائیوں کے علاوہ سب سے بڑی برائی یہ تھی کہ یہ لوگ عورتوں کی بجائے مردوں ہی سے ان کی دبر میں جنسی شہوت پوری کرتے تھے۔ اس فحاشی کی موجد بھی یہی قوم تھی اور اس فحاشی میں اس قوم نے شہرت دوام حاصل کی۔ حتیٰ کہ ایسی فحاشی کا نام بھی قوم لوط کی نسبت سے لواطت پڑ گا۔