78۔ آخر انہیں زلزلے [83] نے آلیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے
[83] قوم ثمود کے کھنڈرات:۔
اللہ تعالیٰ نے سیدنا صالحؑ کو بھی ان کے منصوبہ کی اطلاع دے دی اور ہجرت کا حکم بھی آگیا۔ تیسرے دن ان لوگوں کو پہاڑوں کی طرف سے ایک سیاہ بادل ان کی طرف بڑھتا ہوا نظر آیا تو بڑے خوش ہوئے کہ اب بارش ہونے والی ہے مگر یہ بارش برسانے والا بادل نہ تھا بلکہ ان کی جانوں پر مسلط ہو جانے والا اللہ کا عذاب تھا جس میں سیاہ غلیظ گندھک کے بخارات ملا ہوا دھواں تھا۔ ساتھ ہی کسی پہاڑ سے کوئی لاوا پھٹا جس سے شدید زلزلہ آ گیا اور اس سے ہولناک چیخوں کی آواز بھی آتی رہی جس سے دل دہل جاتے اور کان پھٹے جاتے تھے اور غلیظ دھوئیں نے ان کے جسم کے اندر داخل ہو کر ان کے دلوں اور کلیجوں کو ماؤف کر دیا اور انہیں سانس تک لینا بھی محال ہو گیا جس سے یہ ساری کی ساری قوم چیخ چیخ کر اور تڑپ تڑپ کر وہیں ڈھیر ہو گئی اور اس شدید زلزلے نے ان کے محلات کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا پہاڑوں میں تراشے ہوئے مکانات سوائے چند ایک سب چکنا چور ہو گئے۔ جب غزوہ تبوک سے واپسی پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر کے لیے حجر کے مقام پر اترے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو وہ کنواں بھی دکھلایا جہاں سے اونٹنی پانی پیتی تھی اس درہ کو فج الناقۃ کہتے ہیں۔ پھر کچھ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ان کے کھنڈرات بطور سیر و تفریح دیکھنے چلے گئے تو اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسے مقامات جہاں پر اللہ کا عذاب نازل ہو چکا ہو مقام عبرت ہوتے ہیں وہاں داخل ہو تو اللہ سے ڈرتے ہوئے اور روتے ہوئے داخل ہو اور وہاں سے جلد نکل جایا کرو مبادا ایسا عذاب تم پر بھی آ جائے جو ان پر آیا تھا۔ [بخاري۔ كتاب بدالانبياء باب قول الله ﴿وَاِليٰثَمُوْدَاَخَاهُمْصٰلِحًا﴾ هود: 61]
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔