بلاشبہ یقینا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں، بے شک میں تم پر ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔
ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے (ان سے کہا) اے میری برادری کے لوگو خدا کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا (بہت ہی) ڈر ہے
ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا توانہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود ہونے کے قابل نہیں، مجھ کو تمہارے لئے ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے
59۔ ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے کہا: ”اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، جس کے بغیر تمہارا کوئی الٰہ نہیں۔ میں تم پر ایک بڑے [63] دن کا عذاب واقع ہونے سے ڈرتا ہوں
[63] سیدنا نوحؑ کی بعثت سے پہلے شرک کا آغاز کیسے ہوا تھا؟
سیدنا آدمؑ کی وفات کے بعد مدتوں ان کی اولاد راہ ہدایت پر قائم رہی پھر آہستہ آہستہ ان میں بگاڑ پیدا ہونے لگا اور یہ پہلے بتلایا جا چکا ہے کہ فساد فی الارض کی بنیاد شرک پر ہی اٹھتی ہے۔ ابن عباسؓما کی روایت کے مطابق اس شرک کا آغاز اس طرح ہوا کہ اس قوم میں سے وقتاًفوقتاً پانچ بزرگ اور صالح قسم کے لوگ وفات پا گئے جنہیں دیکھ کر ہی اللہ تعالیٰ کی یاد آنے لگتی تھی جب یہ بزرگ فوت ہو گئے تو عبادت گزار لوگوں نے ان کے خلا کو بری طرح محسوس کیا شیطان نے انہیں پٹی پڑھائی کہ اگر تم ان بزرگوں کے مجسمے بنا کر سامنے رکھ لو تو تمہیں مطلوبہ فائدہ ہو سکتا ہے تمہارا اللہ کی عبادت میں اسی طرح دل لگا کرے گا جس طرح ان کی موجودگی میں لگا کرتا تھا۔ سادہ لوح لوگ شیطان کے اس فریب میں آ گئے اور انہوں نے ان پانچ بزرگوں کے مجسمے بنا کر مسجدوں میں اپنے سامنے رکھ لیے۔ یہ لوگ تو ان مجسموں کو دیکھ کر اللہ ہی کی عبادت کرتے رہے مگر بعد میں آنے والی نسلوں نے انہی مجسموں کی پرستش شروع کر دی اور جب سیدنا نوحؑ مبعوث ہوئے تو ان کی قوم بری طرح ان پانچ بزرگوں، جن کے نام ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر سورۃ نوح میں مذکور ہیں کی پرستش میں پھنس چکی تھی۔ [بخاري۔ كتاب التفسير۔ تفسير سورة نوح]
سیدنا نوحؑ کا مرکز تبلیغ:۔
نوحؑ کا مرکز دعوت عراق کا علاقہ تھا اور غالباً اس وقت دنیا کا صرف یہی علاقہ انسانوں سے آباد تھا اور ابتداءً دجلہ و فرات کا درمیانی علاقہ آپ کی تبلیغ کا مرکز بنا۔ ماسوائے سیدنا آدمؑ کے باقی تمام انبیاء کی دعوت کا آغاز شرک سے امتناع اور خالص اللہ کی پرستش سے ہوتا ہے اور ایک بگڑے ہوئے معاشرے کی اصلاح کا آغاز سیدنا نوحؑ نے بھی اسی دعوت سے کیا اور ساتھ ہی اس بات پر متنبہ کر دیا کہ اگر تم شرک سے باز نہ آئے تو تم پر سخت قسم کا عذاب واقع ہو گا۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔