ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأعراف (7) — آیت 45

الَّذِیۡنَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ یَبۡغُوۡنَہَا عِوَجًا ۚ وَ ہُمۡ بِالۡاٰخِرَۃِ کٰفِرُوۡنَ ﴿ۘ۴۵﴾
جو اللہ کے راستے سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہیں اور وہ آخرت کے منکر ہیں۔
جو خدا کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے اور آخرت سے انکار کرتے تھے
جو اللہ کی راه سے اعراض کرتے تھے اور اس میں کجی تلاش کرتے تھے اور وه لوگ آخرت کے بھی منکر تھے

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

45۔ جو لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے تھے اور آخرت کے [44] منکر تھے“
[44] اسلام کی راہ روکنے والے مسلمان:۔
اس آیت میں ظالموں کی ایک اور قسم کا ذکر کیا گیا ہے اور ایسے لوگ بھی ہر امت میں پائے جاتے ہیں مثلاً مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو دعویٰ تو اپنے مسلمان ہونے کا کرتے ہیں مگر کہتے یہ ہیں کہ اسلام نے جو حدود مقرر فرمائی ہیں یہ وحشیانہ سزائیں ہیں۔ آج کے دور میں ان پر عمل درآمد محال ہے۔ اسلام نے عورتوں کو گھروں میں رہنے کا حکم دے کر انہیں قیدی بنا دیا ہے۔ لونڈی غلاموں کے جواز کا زمانہ لد گیا اسلام اپنے دور میں تو ایک زندہ تحریک تھی مگر آج یہ نظام فرسودہ ہو چکا ہے جو زمانے کا ساتھ نہیں دے سکتا۔ وہ اپنا سیاسی نظام بھی غیروں سے درآمد کرتے ہیں اور معاشی نظام بھی اوروں سے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کے دور میں سود کے بغیر ہماری معیشت چل ہی نہیں سکتی۔ یہ سب باتیں اسلام کا راستہ روکنے اور اس کی سیدھی راہ میں کجی پیدا کرنے کی باتیں ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ روز آخرت پر اور اللہ کے حضور جوابدہی پر ایمان نہیں رکھتے ورنہ وہ ایسی باتیں کیسے کہہ سکتے تھے؟