یا یہ کہو کہ شرک تو ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا ہی نے کیا تھا اور ہم تو ان کے بعد ایک نسل تھے، تو کیا تو ہمیں اس کی وجہ سے ہلاک کرتا ہے جو باطل والوں نے کیا؟
یا یہ (نہ) کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے بڑوں نے کیا تھا۔ اور ہم تو ان کی اولاد تھے (جو) ان کے بعد (پیدا ہوئے) ۔ تو کیا جو کام اہل باطل کرتے رہے اس کے بدلے تو ہمیں ہلاک کرتا ہے
یا یوں کہو کہ پہلے پہلے شرک تو ہمارے بڑوں نے کیا اور ہم ان کے بعد ان کی نسل میں ہوئے، سو کیا ان غلط راه والوں کے فعل پر تو ہم کو ہلاکت میں ڈال دے گا؟
173۔ یا یہ کہہ دو کہ: شرک تو ہم سے پہلے ہمارے آباء و اجداد نے کیا تھا اور ہم تو ان کے بعد کی اولاد تھے تو کیا ہمیں تو اس قصور میں ہلاک کرتا ہے جو غلط کاروں نے کیا [176] تھا
[176] عہدِ الست اور اتمام حجت:۔
اس ازلی عہد کی اللہ تعالیٰ نے دو اغراض بیان فرمائیں ایک یہ کہ انسان پر اتمام حجت ہو جائے اور کوئی مشرک، ملحد، کافر یا نافرمان انسان قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں تو اس حقیقت کا پتہ ہی نہ چل سکا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس عہد کو سمجھنے کی استعداد بھی انسان کے اندر رکھ دی ہے اور خارج میں انبیاء علیہم السلام اور کتابیں بھی بھیج دیں اور دوسری یہ کہ انسان اپنی سابقہ نسلوں پر یا بگڑے ہوئے ماحول پر اپنی گمراہی کی ذمہ داری ڈال کر خود بری الذمہ نہیں ہو سکتا کیونکہ ہر شخص سے یہ عہد انفرادی طور پر لیا گیا تھا وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اصل میں مشرک یا قصوروار تو ہمارے بڑے بزرگ تھے اور ہمیں محض ان کی اولاد ہونے کی سزا کیوں دی جا رہی ہے؟
معتزلہ کا اس عہد الست سے انکار اور اس کی تردید:۔
عہد الست کے وقت تمام بنی آدم کی ارواح کو حاضر کرنے کا قصہ بہت سی کتب احادیث مثلاً ترمذی، ابو داؤد، مالک اور احمد میں کئی صحابہ سے منقول ہے اس کے باوجود معتزلہ نے اس قصہ کا انکار کیا ہے اور ایسی احادیث کو خبر واحد کی بنا پر رد کر دیا ہے وہ اس آیت کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی ذریت اس طرح نکالی کہ وہ بصورت نطفہ پشت آباء میں تھے۔ پھر وہاں سے اپنی ماؤں کے رحموں میں آئے پھر ان کو علقہ، پھر مضغہ وغیرہ مراحل طے کرا کے کامل الخلقت بنا کر ماؤں کے پیٹ سے نکالا پھر عقل و حواس عطا کیا جس سے وہ کائنات میں غور کر کے اس کی وحدانیت پر دلائل قائم کرنے کے قابل ہوئے۔ سو یہی دلائل گویا اللہ تعالیٰ کی طرف سے عہد اور خود ان کو اس بات پر گواہ بنانا ہے اور اللہ تعالیٰ کا کائنات میں ایسے دلائل پیدا کرنا ہی گویا اقرار لینا اور ان کا اس حالت میں زبان حال سے اقرار کر لینا اور گواہ بننا ہے۔ معتزلہ اپنے اس مطلب کے حق میں دو دلائل پیش کرتے ہیں ایک نقلی، دوسری عقلی۔ نقلی دلیل یہ ہے کہ اس آیت میں آدمؑ کا ذکر ہے اسی طرح بنی آدم کی وجہ سے من ظہو رہم کے الفاظ آئے ہیں اگر یہ قصہ سیدنا آدمؑ سے ہی متعلق ہوتا تو من ظہور ہم کی بجائے من ظہرہ آنا چاہیے تھا۔ ان کی اس دلیل کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مراد یہ ہے کہ سلسلہ وار ہر ایک نبی کی پشت سے اس کی اولاد نکالی جو تاقیامت پیدا ہونے والی ہے۔ مثلاً زید کو عمرو کی پشت سے اور عمرو کو اس کے باپ خالد کی پشت سے علیٰ ہذا القیاس تو لامحالہ اوپر کی جانب سیدنا آدمؑ پر ہی یہ سلسلہ منتہی ہو گا کیونکہ سب بنی آدم کے وہی باپ ہیں یعنی آدمؑ کی اولاد پھر اس کی اولاد علیٰ ہذا القیاس تمام بنی آدم کی ارواح حاضر کر لی گئیں جن میں آدمؑ بھی شامل اور موجود تھے اور قیامت تک ان کی ہونے والی ساری اولاد بھی۔ اب اگر آدمؑ کے اور من ظہرہ کے الفاظ ہوں تو بھی یہی مفہوم نکلتا ہے جو بنی آدم اور من ظہو رہم کے الفاظ آنے سے نکلتا ہے گویا الفاظ کے اختلاف کی وجہ سے مفہوم میں کچھ فرق نہیں پڑتا۔ اور ان کی عقلی دلیل یہ ہے کہ عہد تو اہل عقل و ادراک سے لیا جاتا ہے اور ارواح کو عقل و ادراک نہیں تھا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو ہم کو یاد بھی ہونا چاہیے تھا حالانکہ ایسا عہد کسی کو یاد نہیں اس دلیل کا جواب اوپر دیا جا چکا ہے۔ ان دو دلائل کے بعد معتزلہ نے جو اس آیت کا مطلب پیش فرمایا وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کائنات میں دلائل پید ا کر دینا ہی گویا اقرار لینا ہے اور لوگوں کا یا نبی آدمؑ کا اس حالت میں زبان حال سے اقرار کر لینا اور گواہ بننا ہے۔ بالفاظ دیگر کوئی واقعہ بھی ظہور میں نہیں آیا۔ اللہ نے کائنات پیدا کر دی تو اللہ کا اقرار لینا ہو گیا اور لوگوں نے اس کائنات کو دیکھ لیا تو یہ ان کا اقرار کر لینا اور گواہ بننا ہو گیا اس توجیہہ میں جتنا وزن ہے وہ آپ خود ہی ملاحظہ فرما لیجئے۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔